کتاب: رُشدقرأت نمبر 2 - صفحہ 342
قوم ِقریش ہے، ورنہ عمومی اعتبار سے تو آپ پورے اقوامِ عالم کی طرف مبعوث ہوئے تھے، چنانچہ یہ بات طے ہوگئی کہ آپ پر اترنے والی کتاب اصلا لغت ِقریش پر اتری تھی، جس کے مزید دلائل یہ بھی ہیں کہ قرآن کہتا ہے: ۱۔ ﴿فَإنَّمَا یسَّرْنَاہُ بِلِسَانِکَ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ﴾ [الدُّخان:۵۸] ۲۔ ﴿ فإنَّما یسَّرنَاہُ بِلِسَانِکَ لِتُبَشِّرَ بِہِ الْمُتَّقِیْنَ وَتُنْذِرَ بِہِ قَوْمًا لُدًّا﴾ [مریم:۹۷] ان اہل علم کے بقول مذکورہ آیات میں بلسانک کہہ کر جس زبان کو آپ کی زبان کہا گیا ہے، اس کے بارے میں واضح ہے کہ وہ آپ کی مادری زبان قریش ہی تھی۔ ۲۔ صحیح بخاری میں موجود روایت سے بھی اس بات کو تقویت اس طرح سے ملتی ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور ان کی کمیٹی کو یہ ارشاد واضح طور پر فرمایاتھا: ((إذا اختلفتم أنتم وزید فی شیٔ فاکتبوہ بلغۃ قریش، فإنما نزل بلسانہم)) [بخاری:۳۵۰۶] اب یہاں لفظ إنما کے ساتھ اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے طریق ِکتابت میں اختلاف کی صورت میں قریشی رسم الخط کو اختیار کرنے کا حکم دیا تھا، جس کی وجہ انہوں نے خود یوں فرمائی کہ قرآن مجید اَصلا انہی کی زبان میں اترا ہے۔ یاد رہے کہ کلمہ إنما کلام عرب میں حصر کا فائدہ دیتا ہے۔ ثابت ہوا کہ قرآن مجید کی اصل زبان لغت قریش تھی، جس میں بعد ازاں مشقت کے خاتمے کے لیے دیگر لغات میں پڑھنے کی اجازت اگرچہ دیدی گئی تھی، لیکن جب وہ مشقت ختم ہوگئی تو لغات کے اس اختلاف ختم فرما کر اصل لغت قریش کو باقی رکھا گیا، جس میں اب ذیلی طور پر لہجات(اصول) اور اسالیب بلاغت(فروش) کا موجودہ اختلاف شامل ہے۔ عصر حاضر میں عام طور پر ’سبعہ اوجہ‘ کے قائلین امام طبری رحمہ اللہ کے موقف پر ایک بنیادی اعتراض یہ بھی کرتے ہیں کہ ’سبعۃ أحرف‘سے ’سبعہ لغات‘ مراد لینے کے بعد جہاں چھ لغات کا نسخ ماننا پڑتا ہے،پھر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ یہ لوگ جب کہتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فتنہ وفساد کے خاتمہ کے لیے چھ حروف کو موقوف کردیا تھا، تو اس بات کا جواب کیوں نہیں دیتے کہ حروف کو موقوف کرنے کے باوجود انہوں نے موجودہ قراء توں کے اختلاف کو باقی کیوں رکھا؟ اس کے جواب میں ہم واضح کرتے ہیں کہ ’سبعۃ أحرف‘کے ضمن میں امام طبری رحمہ اللہ کے ساتھ تمام اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ ابتداء اً ’سبعۃ أحرف‘ میں مترادفات کا ایک وسیع اختلاف موجود تھا جسے عرضۂ اخیرہ میں منسوخ کردیا گیا، لیکن لہجوں اور اسالیب ِبلاغت کا اختلاف باقی رکھا گیا، چنانچہ اس بات کا تو جواب واضح ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اول تو اپنی طرف سے کوئی کام کیا ہی نہیں تھا، بلکہ عرضہ اخیرہ میں منسُوخ التِّلاوۃ اختلاف کوختم فرما یا تھا جوکہ دور عثمانی میں خصوصافتنہ کی بنیاد بنا ہوا تھا، لیکن جو اختلاف منسوخ نہیں ہوا تھا اسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی باقی رکھا تھا۔ باقی رہا یہ اعتراض کہ حافظ ابن جریر رحمہ اللہ کے موقف کو صحیح ماننے کی صورت میں لازم آتا ہے کہ حروف اور قراءات دو الگ الگ چیزیں ہیں ، جن میں سے حروف تو منسوخ ہوگئے، البتہ قراءات کا اختلاف باقی ہے، تو اس کے جواب میں حافظ ابن جریر رحمہ اللہ کی طرف سے ہم کہنا چاہیں گے کہ ’سبعۃ أحرف‘سے ’سبعہ اوجہ‘ مراد لینے کی صورت میں بھی حروف اور قراءات کو