کتاب: رُشدقرأت نمبر 2 - صفحہ 318
دوسری قسط ڈاکٹرحافظ حمزہ مدنی ٭ تعارف علم القراءات....اَہم سوالات وجوابات سوال نمبر (۲۰) : کیا قراءات میں ہر ہر حرف کی سندموجود ہے ؟ اور کیا ان کے ثبوت کا ذریعہ قطعی و حتمی ہے؟ جواب: قرآن مجید کی سند ایک ایک آیت کے طور پر یا ایک ایک لفظ کے طور پر یا ایک ایک سورت کے طور پر اس طرح موجود نہیں ہوا کرتی،جس طرح اُسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم متعدد احادیث سے ثابت ہوتا ہے اور ساری روایات کو ملا کرواقعہ کی تصویر مکمل کی جاتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اس سے پہلے ذکر کی جاچکی ہے کہ قرآن مجید ایک نظم میں پرو کر اُمت محمدیہ کو دیا گیاہے، جبکہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اُمت کو اس شکل میں موصول نہیں ہوئی۔ قرآن مجید کو نظم کے اندر پُرو کر دینے کی وجہ صرف یہ ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت اُمت کو کرناتھی اور اس تلاوت کو ایک منظم کلام کی صورت دینا ضروری تھا کہ اگر کوئی آدمی آدھ گھنٹہ یاگھنٹہ تلاوت کرنا چاہے تو ایک ترتیب سے پڑھ سکے، جبکہ حدیث میں ایسی کوئی ضرورت موجود نہیں ہے کہ اس کی تلاوت کی جائے، دوسرا فرق وحی باللفظ اور وحی بالمعنی کا ہے۔ رہا یہ مسئلہ کہ کیا قرآن کے ہر ہر حرف یا ہرہر آیت کی کوئی سند ہے ؟ تو یہ بات پچھلی بات سے واضح ہے کہ اس طرح کرکے قرآن مجید کی سند نہیں ہوا کرتی، لیکن امر واقعہ میں ایک بات موجود ہے کہ کسی چیز کو ثابت کرنے کے لیے علماء کے ہاں دو طریقے معروف ہیں : ۱۔کسی چیز کو بیان کیا جائے اور اس کی سند پیش کردی جائے، جس سے وہ روایت ثابت ہو۔ ۲۔ ایک چیز کو مجموعہ روایات کی روشنی میں دیکھا جائے کہ وہ ثابت ہے یا نہیں ، چاہے کسی ایک روایت یا سند کی رو سے وہ غیر ثابت شدہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس بحث کے لیے محدثین کے ہاں تواتر کے اندر ایک بحث موجود ہے، جس کا پہلے بھی ذکر کیا جاچکا ہے کہ محدثین قدر مشترک کی بنیاد پر بھی کسی بات کو ثابت کرتے ہیں ، چاہے وہ بات اپنی ذات کے اعتبار سے خبر واحد ہی کیوں نہ ہو۔ اسی طرح بسا اوقات ایک روایت اپنی انفرادی روایت کی جہت سے تو ضعیف ہوتی ہے، لیکن اس روایت کا قدر مشترک والا معنی، جب دیگر روایات سے ثابت ہوجاتاہے تو محدثین اس روایت کو ’حسن لغیرہ‘ کہہ کر یااس روایت کو ’سنداً ضعیف و مفہوماً صحیح‘ کہہ کر قبول کرلیتے ہیں ، جیسا کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی اجتہاد کے حوالے سے معروف روایت، جس میں انہوں نے فرمایا کہ میں قرآن مجید سے فیصلہ کروں گا اور اگر قرآن میں مجھے فیصلہ نہ ملا تو میں سنت سے فیصلہ کروں گا اور اگر سنت میں حل نہ پاؤں گا تو اپنے اجتہاد کے ساتھ دین میں غور کرکے رائے دوں گا....الخ [سنن الترمذي:۱۳۲۷،أبوداود:۳۵۹۲] کے بارے میں امام ابن قیم رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اگرچہ اپنی [1] مدیر کلیۃ القرآن الکریم، جامعہ لاہور الاسلامیہ وانچارج مجلس التحقیق الاسلامی،لاہور