کتاب: رُشدقرأت نمبر 2 - صفحہ 300
لقي رسول اللّٰہ ! جبریل عند أحجار المروۃ قال: فقال رسول اللّٰہ ! لجبریل:إنی بعثت إلی أمۃ أمیین فیہم الشیخ الفاني والعجوز الکبیرۃ والغلام قال: فمرھم فلیقرء وا القرآن علی سبعۃ أحرف [قال الترمذی،کتاب القرآت،باب ما جاء أن القرآن انزل علی سبعۃ احرف] ’’مروہ کے پہاڑی کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جبریل علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا: میں اَن پڑھ قوم کی طرف مبعوث کیاگیا ہوں ۔ ان میں بوڑھے آدمی،زیادہ عمر کی عورتیں اور جوان شامل ہیں ۔ جبریل ؑ نے کہا: آپ انہیں حکم دیجئے کہ وہ قرآن مجیدسات حروف پر پڑھیں ۔‘‘ ایک حدیث کے الفاظ ہیں :(( فمن قرأ بحرف منھا فھو کما قرأ )) ’’جس نے ان میں سے کوئی حرف پڑھا وہی درست ہے۔‘‘ سیدناحذیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ ہیں : ’’فقلت یا جبریل! إنی أرسلت إلی أمۃ أمیۃ فیھم الرجل والمرأۃ والغلام والجاریۃ والشیخ الفاني الذی لم یقرأ کتابا قط قال إن ھذا القرآن أنزل علی سبعۃ أحرف‘‘ ’’میں نے کہا: اے جبریل! میں اَن پڑھ قوم کی طرف بھیجا گیاہوں ، ان میں آدمی، عورتیں ، بچے، بچیاں اور ایسے بوڑھے ہیں جنہوں نے کبھی کوئی کتاب نہیں پڑھی، جبریل ؑ نے کہا: بے شک یہ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے۔‘‘ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ ہیں : ’’أنزل القرآن علی سبعۃ أحرف‘‘ ’’قرآن کریم سات حروف پرنازل کیا گیاہے۔‘‘ حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے : ’’دخلت المسجد أصلی فدخل رجل فافتتح النحل فقرأ فخالفني فی القراءۃ،فلما انفتل قلت: من أقرأک؟ قال: رسول اللّٰہ ! ثم جاء رجل فقام وصلی فقرأ فافتتح النحل فخالفني وخالف صاحبی،فلما انفتل قلت من أقرأک؟ قال رسول اللّٰہ !۔ قال فدخل قلبی من الشک والتکذیب أشد ما کان في الجاھلیۃ۔ فأخذت بأیدیھما وانطلقت بھما إلی رسول اللّٰہ ! فقلت استقریٔ ھذین۔ فاستقرأ أحدھما فقال: أحسنت فدخل قلبی من الشک والتکذیب أشد مما کان في الجاھلیۃ۔ فضرب رسول اللّٰہ ! صدری بیدہ فقال أعیذک یا أُبَي من الشّک! ثم قال: إنَّ جبریل أتانی فقال: إن ربک عزوجل یأمرک أن تقرأ القرآن علی حرف واحد فقلت: اللھم خفف عن أمتی ثم عاد فقال إن ربک عزّ وجل یأمرک أن تقرأ القرآن علی حرفین فقلت اللھم خفف عن أمتی ثم عاد فقال إن ربّک عزّ وجل یأمرک أن تقرأ القرآن علی سبعۃ أحرف وأعطاک بکل ردۃ مسألۃ۔ الحدیث حرث بن ابی اسامہ نے اپنی سند میں ان الفاظ کے ساتھ روایت کیاہے۔ ’’میں نے مسجد میں نماز پڑھی، اسی اثناء میں ایک آدمی آیا اور اس نے سورہ نحل شروع کی۔اس نے میری قراءت کے برعکس پڑھا۔ جب وہ فارغ ہواتو میں نے پوچھا: تمہیں کس نے پڑھایاہے؟اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ پھر ایک اور آدمی آیا اس نے نماز میں سورۃ نحل شروع کی اور قراءت میں ہم دونوں کی مخالفت کی۔جب وہ فارغ ہواتو میں نے پوچھا:تمہیں اس طرح کس نے پڑھایا ہے؟ اس نے کہا: رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ اس صورت حال سے میرے دل میں جاہلیت کے دور سے بھی زیادہ شک اور تکذیب پیدا ہوا۔ میں نے ان دونوں کاہاتھ پکڑا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیااور عرض کی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں سے تلاوت سنیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سے سن کر فرمایا: