کتاب: رُشدقرأت نمبر 2 - صفحہ 30
سفر اعداد اور سفر الثنیۃ کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب اپنی اصل پرقائم نہ رہ سکی۔ہر زمانہ کے لوگوں نے اس میں ردوبدل کیا۔ اس کی اندرونی شہادتیں بھی اس امر کی غماز ہیں کہ یہ محرف شدہ ہے ،کیونکہ اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کا وصف موجود ہے اور کوئی عاقل انسان یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی وفات کا حال خود ہی تحریر کردیا ہو یا آپ نے اپنی موت کا مشاہدہ ہی کیا ہو۔ اس کے علاوہ متعدد دلائل اس کے محرف ہونے پر دلالت کرتے ہیں ۔ ۲۔ انجیل : یہ کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی، لیکن کسی مؤرخ نے آج تک یہ نہیں لکھا کہ یہ کتاب کس شکل میں تھی؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کی دعوت زبانی کلامی دیتے تھے۔ قرآن میں ہے: ﴿وَلِاُحِلَّ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ﴾ [آل عمران:۵۰] ’’اور میں اس لیے آیا ہوں کہ تمہارے لیے بعض ان چیزوں کو حلال کردوں جوتم پر حرام کردی گئیں ہیں ۔‘‘ انجیل کا تورات سے معمولی فرق تھا۔اس کے بعد اس میں تحریف کا سلسلہ شروع ہوا اور اس حدتک بڑھا کہ ہرقبیلہ کی الگ الگ انجیل بنا لی گئی۔ ۳۲۵ء میں قسطنطین نامی بت پرست عیسائیت میں داخل ہوا اور اس نے انیقہ میں عیسائیت کا بین الاقوامی اجتماع منعقد کیاجس میں یہ طے پایا کہ چار انجیلیں رکھی جائیں اور باقی انجیلوں کو تلف کردیا جائے اور یہ اس لیے کیا گیا کہ اختلاف کو ممکن حد تک کم کیا جائے، لہٰذا ایسا ہی کیا گیا اور چار انجیلوں کو باقی رکھا گیا جو کہ متیٰ، مرقس، لوقا اور یوحنا کے ناموں سے مشہور ہیں ۔ ان کامطالعہ کرنے والے اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ان چار انجیلوں کی باہم شکل وصورت اور موضوع بہت زیادہ مختلف ہیں ، حتیٰ کہ ابتداء، انتہا، آیات اور فصول کے اعتبار سے ان کااس قدر اختلاف ہے کہ ان کے اتحاد کی کوئی صورت نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ جمہور علما اس میں لفظی و معنوی دونوں طرح کی تحریف موجود ہونے کے قائل ہیں اور قرآن مجید نے خود اس کی شہادت دی ہے۔﴿یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِہِ﴾ [المائدۃ:۱۳] ’’ان کا حال یہ ہے کہ الفاظ کا الٹ پھیر کرکے بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں ۔‘‘ پادری ہارن(Horne)بائیبل کی تحریف کے اقرار کے ساتھ اپنی کتاب دیباچہ علوم بائیبل ۲:۳۱۷ میں اس کی چار عالمانہ وجوہ قائم کی ہیں : اوّل:ناقلوں کی غفلت (ا) : عبرانی اور یونانی کے کئی حروف صوت اورصورت میں مشابہ ہیں ۔اسی سبب سے بعض غافل اور بے علم ناقلوں نے کسی ایک لفظ یا حرف کے بجائے دوسرا لفظ یا حرف لکھ کر اختلاف پیدا کردیا۔ (ب): ابتدا میں کتابت بڑے(Capital)حروف میں کی جاتی تھی اور لفظوں بلکہ فقروں کے درمیان اکثر اَوقات بیاض نہ چھوڑی جاتی تھی اسی وجہ سے کہیں لفظوں کے جز لکھنے سے رہ گئے اور کہیں مقرر تحریرہوگئے۔ (ج): اختصار کے نشان قدیم قلمی نسخوں میں بکثرت موجود ہیں غفلت شعار نقل نویسوں نے ان کا صحیح مفہوم نہ سمجھا۔ (د):قدیم نسخوں میں ان کے لکھنے یا پڑھنے والوں نے بعض تشریحی اور تفسیری الفاظ اور فقرے اپنے طور پر تحریرکردیئے تھے، انہیں متن کا حصہ سمجھ لیاگیا۔قدیم نسخوں میں بین السطور یا حاشیے میں مشکل مقامات کی شرح لکھنے کاعام رواج تھا ۔وغیرہ