کتاب: رُشدقرأت نمبر 2 - صفحہ 271
بنا کر یہ بات کہی ہے۔ تعقیب وترجیح میں سمجھتا ہوں پہلا موقف زیادہ واضح ہے کہ قراءات کا نزول مکہ میں ہوا یہ قول راجح ہے اور اسی پر قلب مطمئن ہوتا ہے ۔ اور اس پرکوئی اعتراض بھی وارد نہیں ہوتا ہے۔ رہی دوسرے موقف کی بات تواس پر اعتراض وارد ہوتا ہے۔اس کی وجہ سے یہ قول مرجوح ہے ۔ اعتراض یہ ہے کہ ۸۳ سے زیادہ سورتیں مکہ میں نازل ہوئیں ۔ اور اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ سبعۃ أحرف کے مطابق نازل ہوئیں ، کیونکہ کسی قوی سند تو کیا ضعیف سے بھی ان سورتوں کے دوبارہ مدینہ میں نازل ہونے کا ثبوت نہیں ملتا ۔پس ان مکی سورتوں کا دوبارہ نازل نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ قراءات مکہ میں نازل ہوئیں ۔ [رحاب فی القرآن الکریم:۲۲۲،۲۲۴] شیخ محمد سالم رحمہ اللہ کا موقف کا درست معلوم ہوتا ہے کہ قراءات کے نزول کی ابتدا مکہ میں ہو چکی تھی اب ہم اس پر مزید کچھ قرائن وشواہد پیش کرتے ہیں ۔ ٭ دلیل اوّل جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسانی ٔ امت کی خاطر اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور یہ دعا کوئی ایک موقع یا ایک وقت میں نہیں کی بلکہ متعدد بارکی ہے اورمواقع بھی مختلف معلوم ہو رہے ہیں اس کی دلیل یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارہ میں جو روایات ہم تک پہنچی ہیں وہ مختلف الا لفاظ ہیں ۔ اور روایت کرنے والے صحابہ بھی الگ الگ ہیں ۔ اس کے متعلقہ روایات میں سے صرف ایک روایت پر ہم بحث کریں گے۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی روایت جو ’’مسلم‘‘ میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اضاء ۃ بنی غفار کے قریب جبرائیل علیہ السلام سے ملے تو آپ نے آسانی امت کی سفارش کی....إلی آخرہ إضاءۃ بنی غفار کس جگہ کو کہتے ہیں ؟پہلے اس کی وضاحت ضروری ہے۔ مؤرخین اور علماء دو حصوں میں تقسیم ہیں : ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ یہ جگہ مدینہ کے قریب ہے جیسے طبرانی رحمہ اللہ اور ابن احجر رحمہ اللہ وغیرہ اور کئی دیگر علماء کا قول ہے کہ یہ جگہ مکہ کے قریب ہے۔ رحمہ اللہ محقق تاریخ دمشق’’ علی شیری ‘‘نے لکھا ہے کہ اضاء ۃ بنی غفار مکہ سے دس میل کے فاصلہ پر ہے۔ [تاریخ دمشق:۴۷/۲۴۲] ۲۔ اضا ء ۃ بنی غفار موضع قرب مکۃ[خلاصۃ الوفا باخبار دار المصطفی:۱/۳۰۳] ’’اضاء ۃ بنی غفار مکہ کے قریب ایک جگہ ہے۔‘‘ اب ہم اضاء ۃ بنی غفار کے ارد گرد جگہوں کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ واضح ہو کہ اضاء ۃ بنی غفار مکہ کے قریب ہے یامدینہ کے؟ ۱۔ إضاء ۃ فوق سرف[معجم البلدان:۱/۴۲۶]