کتاب: رُشدقرأت نمبر 2 - صفحہ 207
تعلیم آپ کے والد صاحب نے فرمایاکہ بیٹا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سے ہیں ۔اس نسبت سے قرآن اور دین متین کے وارث ہیں ۔ لہٰذا تم سکول کی تعلیم ترک کرکے دینی تعلیم حاصل کرو۔۱۹۴۰ء میں جامعہ فتحیہ مسجد جٹاں اچھرہ لاہور سے آپ نے اپنی دینی تعلیم کا آغاز کیا۔ پھر اسی کو آگے بڑھانے کے لیے جہلم اور سرگودھا تشریف لے گئے۔۱۹۴۳ء میں بھین ضلع جہلم مولانا کرم دین رحمہ اللہ سے ترجمہ قرآن پڑھا۔ موہڑا ضلع جہلم مولانا عابد رحمہ اللہ سے کافیہ پڑھی۔ پھر جامعہ فتحیہ لاہور تشریف لے آئے اور وہاں دورہ حدیث تک مولانا حافظ مہر محمد رحمہ اللہ سے پڑھا۔ ۱۹۵۴ء میں جامعہ اشرفیہ لاہور سے آپ نے دوبارہ دورۂ حدیث کیا اور وہاں سے اکابر علما دیوبند سے استفادہ کیا۔ حفظ: دورانِ درس نظامی آپ نے چھ ماہ کے عرصہ میں حفظ قرآن مکمل کیا۔ علم قراءت کی تحصیل تجوید کی ابتدائی تعلیم استاد القراء قاری عبد العزیز شوقی رحمہ اللہ سے دارالعلوم اسلامیہ پرانی انارکلی سے حاصل کی پھر امام القراء قاری عبد المالک رحمہ اللہ سے روایت حفص میں سند حاصل کی۔ قراءت سبعہ میں آپ کے ساتھی حضرت مولاناقاری استاذ القراء اظہار احمد تھانوی رحمہ اللہ ، مولانا حکیم عبد الحکیم رحمہ اللہ ، حافظ محمد دین کیمل پوری رحمہ اللہ ، حافظ عبد الرحمن کیمل پوری رحمہ اللہ اور مولانا راز محمد ایرانی رحمہ اللہ تھے۔ حضرت امام القراء قاری عبد المالک رحمہ اللہ نے آپ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ حسن شاہ تم شاطبی میں شریک کیوں نہیں ہوتے؟آپ نے عرض کیا جیسے آپ کا حکم ہو۔ قاری حسن شاہ رحمہ اللہ غضب کے لائق اور محنتی تھے۔ اسی لیے امام القراء قاری عبد المالک رحمہ اللہ نے آپ کے اندر موجود صلاحیتوں کو دیکھ کر تعلیم جاری رکھنے کا حکم فرمایا۔ آپ نے اپنے استاد سے تمام لہجوں میں عبور حاصل کیا ۔آپ بڑے خوبصورت انداز میں تلاوت کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حسن تجوید، حسن صوت، حسن لہجہ اور حسن صورت و سیرت سب سے نوازا تھا۔ امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ سے ملاقات کے لیے جب بھی قاری صاحب رحمہ اللہ تشریف لے جاتے تو امیر شریعت خود بھی بڑے اہتمام کے ساتھ قرآن پاک سنتے اور اہل خانہ کو بھی پردے کے پیچھے تلاوت سننے کی تاکید کرتے۔ آپ نے۱۹۵۵ء کے جلسہ دستار بندی کے موقع پر سند حاصل کی۔ اس موقع پر مولانا محمد طیب قاسمی رحمہ اللہ کی تقریر سے پہلے تلاوت آپ رحمہ اللہ نے کی تھی جس کی تعریف بعد میں مولانا صاحب موصوف رحمہ اللہ نے اپنی تقریر کے دوران اس طرح کی کہ ایک جید قاری قرآن مجید کی تلاو ت کر رہے تھے اور یوں محسوس ہورہا ہے جس طرح قرآن اتر رہا ہے۔ تدریسی خدمات آپ نے فراغت کے بعد ۱۹۵۷ء سے لے کر ۱۹۶۲ء تک جامعہ رحیمیہ نیلا گنبد مسجد میں پڑھایا۔ ۱۹۸۴ء سے ۱۹۹۰ء تک مدرسہ رنگ محل تجوید القرآن، لاہور میں شعبہ تجوید و قراءت میں فرائض سر انجام دیے۔ اسی دوران بعد از ظہر جامعہ دارالعلوم اسلامیہ، کامران بلاک، علامہ اقبال ٹاؤن،لاہور میں بھی تدریس کی۔ ایوب دور میں آپ کو لاہور بدر کردیا گیا تو آپ شرقپور تشریف لے گئے اور وہاں کچھ عرصہ پڑھایا۔ جہلم میں مولانا حبیب الرحمن رحمہ اللہ کے مدرسہ