کتاب: رُشدقرأت نمبر 2 - صفحہ 193
قرآن کی خدمت میں ہمہ وقت مشغول رکھے اور روز محشر ہمیں خادمین قرآن میں شمار کرے۔ آمین یا رب العالمین بعد اَزاں عرض کرتا ہوں کہ جیسا کہ تذکرہ کیا گیاکہ نامور اساتذہ تجوید و قراءات مسلک اہل حدیث کے مدارس سے وابستہ رہے اور انہوں نے وہاں بڑی شاندار خدمات انجام دی ہیں ۔ انہی نامور قراء کرام کے حالات کا آئندہ صفحات میں تذکرہ ہوگا۔ ۱۔شیخ المشائخ قاری اظہار حمد تھانوی رحمہ اللہ نام و نسب آپ کا نام اظہار احمد بن اعجاز احمد بن منشی ابراہیم احمد تھانوی تھا۔آپ۹/ذیقعدہ بروز منگل بمطابق ۱۹۳۰ء کو مشہور قصبے تھانہ بھون میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم چھ سال کی عمر میں ابتدائی تعلیم مدرسہ امداد العلوم جو خانقاہ امدادیہ میں واقع تھا،سے شروع کی۔ سب سے پہلے قرآن پاک حفظ کیا۔ پھر نحو و صرف کی کتب ، تاریخ، سیرت، اَدب، منطق، فقہ کی ابتدائی کتب کافیہ، فصول اکبری اور نفخۃ الیمن اور اس کے علاوہ عربی کتب بھی پڑھیں ۔ مظاہر علوم سہارنپور میں حصول تعلیم مدرسہ امداد العلوم تھانہ بھون سے فراغت کے بعد آپ مزید تعلیم کے لیے مظاہر العلوم سہارنپور تشریف لے گئے۔ وہاں اپنے وقت کے نامور اَساتذہ سے استفادہ فرمایا اور دورہ حدیث کیا۔مظاہر العلوم میں دورہ حدیث کرنے کے دوران آپ مدرسہ تجوید القرآن سہارنپور میں استاذ القراء قاری عبد الخالق رحمہ اللہ کی خدمت میں بھی حاضر ہوتے رہے اور ان سے بھی مشق، حدر اور تجوید میں استفادہ فرمایا۔ پاکستان آمد جولائی ۱۹۴۷ء میں آپ مظاہر العلوم سے فارغ ہوئے اور بعد اَزاں قیام پاکستان کے فوراً بعد پاکستان تشریف لے آئے۔یہاں آکر سب سے پہلے آپ نے جامعہ اشرفیہ نیلا گنبد میں تدریس کی اور بعد ازاں دارالعلوم اسلامیہ پرانی انارکلی میں درس نظامی کی کتب پڑھانا شروع کیں ۔ اس کے علاوہ آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے منشی فاضل اور اَدیب فاضل کے امتحانات بھی نمایاں طور پر پاس کیے۔ اَدبی ذوق حضرت قاری صاحب میں ادبی ذوق اور صحافتی طرزِ نگارش حضرت مولانا اسعد اللہ شاہ رحمہ اللہ کی صحبت میں پروان چڑھا تھا۔ اسی لیے مختلف ملکی اور غیر ملکی اخبارات اور جرائد میں مضامین لکھنے کا سلسلہ تمام زندگی جاری رہا۔ روزنامہ انقلاب میں تو سنڈے ایڈیشن کے انچارج بھی رہے۔ اس کے علاوہ آپ کے مضامین ’دارالعلوم دیوبند‘، ’الحق‘