کتاب: رُشدقرأت نمبر 2 - صفحہ 180
گئے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ دیگر تمام نسخوں کو جن میں قراءات کااختلاف موجود ہو تلف کیا جائے۔[مقدمہ کشف النظر: ۲ /۷۸] (ب)....حارف محاسبی سے اتقان میں منقول ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو صر ف ایک قسم کے طرز تلفظ یعنی لغت قریش پر جمع کیااس کے قبل کے نسخوں میں متعدد لغات موجود تھیں ۔ [اتقان:۱/۶۰] ۷۔....حضرات محققین نے سات حروف پر نازل ہونے کی جو حکمتیں بیان کی ہیں ان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ سبعۃ اَحرف سے مراد سات لغات ہوں ۔ سات اَحرف پر نازل ہونے کی حکمت مقدمہ کشف النظر میں ہے:ابتداء میں سات لغات میں پڑھنے کاجواز اور بعد میں صرف ایک لغت پر اکتفاء میں راز اور حکمت(واللہ اعلم) یہ ہے کہ :قرآن کریم میں تصریح ہے:﴿بِلِسَانٍ عَرَبٍیٍّ مُّبِیْنٍ﴾ یعنی قرآن عربی زبان میں اترا ہے۔ بعض مخصوص الفاظ میں قبائل عرب میں اختلاف تھا جیسا کہ دہلی اور لکھنؤ کی زبان اُردو میں ، یاپشاور اور قندھار کی پشتو میں ۔﴿وَمَا أرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ﴾ظاہر ہے کہ حضور علیہ السلام کی قوم خاص قریش تھی اورقوم عام عرب تھی۔ دوسرے طرف عرب کا مزاج قبائلی خصوصیات کا تحفظ تھا اور ان خصوصیات میں وہ درجۂ تعصب کو پہنچے ہوئے تھے۔ آج بھی اقوام میں لسانی تعصّب کاجذبہ موجود ہے، لہٰذا حکمت ِ الٰہی کا تقاضا یہ ہوا کہ قرآن کے محدود الفاظ میں جہاں عرب قبائل کی لغات میں فرق ہے ہر قبیلہ کو اپنی اپنی لغت کے مطابق تلفظ کی اجازت دی جائے تاکہ ایک طرف عربی زبان کی تمام شاخیں کلام الٰہی کی برکت سے بہرہ یاب ہوں اور عرب قبائل کی زبانیں عمومی شکل میں ’’بلسان عربی مبین‘‘ کے تحت نزول کلام الٰہی کی برکت سے فیض یاب ہوسکیں اور دوسری طرف عرب قبائل کو اپنی لغت خاصہ کی محرومی کا افسوس بھی نہ ہو اور لسانی تعصّب کا اندیشہ بھی نہ رہے۔ جمع عثمانی کے وقت جب دائرہ اسلام وسیع ہوگیا اور قبائلی خصوصیات ختم ہوکر وحدت عرب بلکہ وحدت اسلامی کے رنگ میں تمام قبائل پوری طرح رنگے گئے تو سبعہ لغات یاقبائل خصوصیات کی ضرورت باقی نہ رہی لہٰذا صرف لغت ِ قریش پر مصحف ِ عثمانی میں اکتفاء کیاگیا۔ یہ اجماع لغت قریش پر امرنبوی سے تھا یا انتہائے حکم بانتہائے علت کی شکل تھی۔ [ص۸۸] ۸۔....شرح شاطبی کے مقدمہ میں ’سبعہ احرف‘ پر نازل کرنے کی ایک حکمت یہ بیان کی ہے کہ : ’’اگر قرآن کریم ایک ہی لغت(قریش) پر نازل ہوتا تو دوسری لغت والوں کو یہ کہنے کی گنجائش رہتی کہ اگر ہمارے لغت میں ہوتا تو ہم اس کامثل بنا لاتے اور حق تعالیٰ کے ارشاد:﴿قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَت﴾ میں کذب کاوہم ہوتا حالانکہ وہ اس سے پاک اور بری ہیں ۔ سوال: جب سات حروف سے مرادسات لغات ہیں جن میں ایک لغت قریش بھی ہے تو پھر سورۂ فرقان میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ کی قراء تیں جدا جدا کیوں تھیں کیا وہ دونوں قریشی نہیں تھے؟ جواب: دونوں قریشی تو تھے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ دونوں کی لغت بھی ایک ہی ہو کیونکہ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شخص قریشی ہو اور اس کی پرورش کسی دوسری قوم میں ہوئی ہو اور عربوں میں یہ بات کثرت سے پائی جاتی ہے