کتاب: روزہ جو ایک ڈھال ہے - صفحہ 351
راہنمائی ہے۔ اور مقصود و مطلوب کو حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ۔ اور نفوس پر ہے بھی نہایت آسان۔ ‘‘ [1] اللہ ربّ العالمین کی حمد و ثنائے جمیل ہے کہ اُس نے روزوں کے احکام و مسائل کے کچھ علم و فہم اور ان کو بالترتیب جمع کرنے کی آسانی میسر کرتے ہوئے توفیق فرمائی۔ میں نے حتی الوسع اس ضمن میں اپنی پوری کوشش صرف کر ڈالی ہے۔ تو اس بارے میں اگر کوئی درست کام کرنے کی مجھے توفیق ملی ہے، تو اللہ عزوجل کے خاص فضل و کرم سے ہے، اور میں کسی بھی ایسے قاری کتاب کو اس کی مہربانی سے ہرگز محروم نہیں کروں گا، ان شاء اللہ کہ جو اپنے علم میں راسخ اور فاضل عالم ہو اور اپنے دین پر حریص ہو اور نصیحت میں مخلص۔ اور اپنی گفتگو اور تحریر میں ادب کا لحاظ رکھنے والا کہ وہ میری غلطی کو معاف کردے، اور اپنے علم و فہم والے بھرے ہوئے برتن سے میرے اوپر اپنے علم کے چھینٹے بھی ڈال دے، اور وہ بھی میرے ساتھ اس اجر میں شریک ہوجائے اور میری اس کتاب کو بلند مرتبہ بنادے۔ علاوہ ازیں میں اللہ عزوجل سے سوال کرتا ہوں کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے، وہ اس کو اپنی ذاتِ اقدس کے لیے خالص کرلے اور اس کے ذریعے
[1] دیکھئے: زاد المعاد في ھدي ضیر العباد: ۲؍۲۸۔