کتاب: روزہ جو ایک ڈھال ہے - صفحہ 350
طرح تم کو بھی گنتی کے کئی دن روزے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے کہ تم گناہوں سے بچو۔ ‘‘ اور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:((اَلصَّوْمُ جُنَّۃٌ))… روزہ(ہر قسم کے موانع سے)ایک ڈھال ہے۔ ‘‘ [1] اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اُس شخص کو روزے رکھنے کا حکم فرمایا ہے کہ جس کی نکاحی شہوت سخت ہوجائے۔ اور آپؐ نے روزہ کو اس شہوت کے لیے ڈھال قرار دیا ہے۔ [2] حاصل کلام یہ ہے کہ روزے کی مصلحتوں کے لیے کہ جو سلیم عقلوں کے ذریعے گواہی دے دی گئی ہیں اور استقامت والی فطرتوں کے ذریعے تو اللہ تعالیٰ نے روزے کو اپنے بندوں کے لیے اُن پر رحم کرتے ہوئے اور ان کے ساتھ احسان فرماتے ہوئے اُن کے لیے مشروع کیا ہے۔ اور اُن کے لیے(برائیوں اور خراب عادت سے)بچاؤ کرتے ہوئے اُن کے لیے ڈھال بنادیا ہے۔ اور اس ضمن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہنمائی اور ہدایت نہایت مکمل
[1] دیکھئے: صحیح البخاری، حدیث: ۷۴۹۲۔ وصحیح مسلم، حدیث: ۱۱۵۱۔ [2] یہاں صحیحین کی ایک حدیث کی طرف اشارہ ہے۔ دیکھئے: صحیح البخاری، حدیث: ۱۹۰۵۔ وصحیح مسلم، حدیث: ۱۴۰۰۔ یہ حدیث شروع کتاب میں گزرچکی ہے۔