کتاب: روزہ جو ایک ڈھال ہے - صفحہ 349
تک بندے کا اپنے کھانے، پینے اور اپنی نفسانی خواہش و سہوت کو اپنے معبودِ برحق اللہ ربّ العالمین کے لیے چھوڑنے کا تعلق ہے تو یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ جس پر کوئی بستر مطلع نہیں ہوسکتا اور یہی روزے کی حقیقت ہے۔ اور انسان کے اعضائے جسمانی و قوائے باطنیہ کی مفطرات سے حفاظت میں روزے کی ایک حیران کن تاثیر ہے۔ اور اس طرح نفس کا دفاع کرنا اُس کے لیے خرابی پیدا کرنے والے مواد سے کہ جو آمیزش کو لانے والے ہوں کہ جو نفس پر جب غالب ہوجائیں تو اسے خراب کردیں۔ اور ایسے بیکار، ردی قسم کے مواد کا اس سے نکال باہر کرنا کہ جو اس کی صحت و تندرستی کے لیے مانع ہو۔ چنانچہ روزہ دل کی بھی حفاظت کرتا ہے اور اعضائِ جسم کی صحت کی بھی۔ اور ان اعضاء و جوارح کی طرف وہ سب کچھ واپس لوٹادیتا ہے جو اس سے شہوت کے ہاتھوں نے سلب کر رکھا ہوتا ہے۔ چنانچہ روزہ تقویٰ کے لیے سب سے بڑا مددگار ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں: ﴿یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ o (البقرۃ:۱۸۳) ’’مسلمانو! جیسے اگلے لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا تھا، اسی