کتاب: روزہ جو ایک ڈھال ہے - صفحہ 348
(فوراً اطاعت کرنے پر تیار ہوجانے)کے لیے روک لے کہ جس میں وہ اس کو اس کی معاس و معاد(دنیا و آخرت)میں تکلیف پہنچائے۔ اور وجود کے ہر عضو کو تسکین پہنچائے(ایک ٹھہراؤ پیدا ہوجائے)اور ہر طاقت(حرام طریقے سے دیکھنے، سننے، بولنے، چکھنے، چلنے اور پکڑنے وغیرہ)کی سرکشی سے اُسے روک کر رکھے۔ اور اس ضبطِ نفس کے ساتھ ہر غلط اور حرام حرکت کو اس مقصود و مطلوب کے ساتھ لگام دے۔ اور یہی اللہ کے متقی بندوں کی اپنے نفس کو لام، نفس کے خلاف لڑنے والوں کے لیے(روزہ کے آداب و واجبات)ایک ڈھال، اللہ کے نیک، صالح اور مقرب بندوں کی ایک ریاضت ہے۔ چنانچہ روزے دار مومن آدمی شریعت کے خلاف اپنی مرضی سے کچھ نہیں کرتا۔ بلکہ وہ اپنے معبود حقیقی اللہ رب العالمین کی رضا کے لیے اپنے کھانے، پینے اور اپنی نفسانی خواہش کو چھوڑ دیتا ہے۔ اور یہی ہے اللہ کریم کی محبت، اور اس کی رضا کے لیے ایثار سے کام لیتے ہوئے نفس کی پسندیدہ خواہشات، اور نفس کے لیے لذتوں کے حصول کو ترک کردینا۔ اور یہی وہ راز ہے کہ جو بندے اور اس کے رب کے درمیان بطورِ جید رہتا ہے کہ جس پر اللہ عزوجل کے سوا کوئی دوسرا مطلع نہیں ہوسکتا۔ جبکہ بندے تو اس کے ظاہری طور پر روزے کو توڑ دینے والی چیزوں کو چھوڑنے پر ہی مطلع ہوتے ہیں۔ اور جہاں