کتاب: روزہ جو ایک ڈھال ہے - صفحہ 346
کے لیے)ایک صاع ادا کرنا۔ یہ صدقۃ الفطر کی ادائیگی مسلمان غلام پر بھی فرض ہے اور آزاد مسلمان پر بھی۔ مرد پر بھی اور عورت پر بھی۔ چھوٹے پر بھی اور بڑے پر بھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ صدقۃ الفطر لوگوں کے نماز عیدالفطر کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کردیا جائے۔ ‘‘[1]
ج:سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ’’ ہم کھانے، خوراک میں سے ایک صاع(مدنی ٹوپہ = دو کلو گرام اور ۷۰۰ گرام)یا جو میں سے ایک صاع یا کھجوروں کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع(ٹوپہ)یا کشمش کا ایک صاع بطورِ صدقۃ الفطر(گھر کے ہر فرد کی طرف سے ایک صاع کے حساب سے)نکالا کرتے تھے۔ ‘‘ [2]
[1] دیکھئے: صحیح البخاری؍ کتاب الزکاۃ، باب فرض صدقۃ الفطر، حدیث: ۱۵۰۳۔ وصحیح مسلم؍ کتاب الزکاۃ، باب: زکاۃ الفطر … حدیث: ۹۸۴۔
[2] دیکھئے: صحیح البخاری، حدیث: ۱۵۰۶، باب صدقۃ الفطر صاع من طعام۔ صحیح مسلم، حدیث: ۹۸۵۔