کتاب: روزہ جو ایک ڈھال ہے - صفحہ 340
کشف ہوگا تو اجر و ثواب ملے گا۔ ورنہ نہیں)بلکہ استقامت و اخلاص سے آنسو بہانا عبادت کے لیے شب بیداری ہے۔ اور بلاشبہ استقامت و دل جمعی سے عبادت محال و ناممکن ہوتی ہے، مگر یہ کہ کرامت ہوجائے۔ بخلاف خوارق عادت کے۔ بسااوقات یہ کرامت واقع ہوتی ہے اور بسااوقات فتنہ کا سبب بن جاتی ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کا فضل بہت وسیع ہے۔ اور کبھی کوئی آدمی، شب قدر کا قیام کرنے والا بغیر کسی کرامت و خارقِ عادت کے اس کا اجر و انعام حاصل کرلیتا ہے۔ اور دوسرا کوئی شخص بغیر عبادت کے ہی خارق عادت چیز کا مشاہدہ کرلیتا ہے۔ البتہ جو آدمی عبادت کے دوران اس خوراقِ عادت چیز کو حاصل کرلیتا ہے تو وہ افضل ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔ ‘‘[1]
[1] تھوڑے سے تصرف کے ساتھ اس موضوع کے مفہوم کا خلاصہ اوپر بیان کیا ہے جسے حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ نے فتح الباری: ۴؍۳۱۳ میں درج کیا ہے۔ اور انہوں نے بھی اسی بات کو ترجیح دی ہے، جسے امام نووی رحمہ اللہ نے المنہاج: ۶؍۲۸۳ میں اختیار کیا ہے۔ اور امام قرطبی رحمہ اللہ نے المفہم: ۳؍ ۱۳۰۶ میں ’’ یُوَافِقُھَا ‘‘ کا معنی کیا ہے: ’’ یُصَادِفُھَا … کہ لیلۃ القدر میں عبادت کرنے والے کو جو اس رات نماز پڑھ رہا ہو یہ رات اتفاقاً، اچانک مل جائے۔ گویا امام قرطبی رحمہ اللہ نے اس بات کو اختیار کیا ہے کہ جو اللہ کا بندہ مومن آدمی لیلۃ القدر کو عبادت میں جاگ کر گزارتا ہے، تو اگرچہ اس کو اس رات کا علم نہ بھی ہوسکے وہ وعدہ شدہ اجر کو ضرور حاصل کرے گا۔ واللہ اعلم۔