کتاب: روزہ جو ایک ڈھال ہے - صفحہ 332
یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو اس کے رجحان پر قائم بھی رکھا۔ اور اسی طرح اذان وغیرہ کے اُمور میں شرعی اُمور کا تکرار بھی(احادیث میں)مذکور ہے۔ ‘‘ [1]
۳: اس رات کا نیند والے خواب کی صورت میں بعض صالحین کا دیکھ لینا ایسا امر واقع ہے جو شرعاً مقرر ہے۔ اور اس کا حصول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرد صحابہ کرام سے ثابت ہے۔
مسئلہ:… کیا جاگنے کی حالت میں لیلۃ القدر کی کوئی ایسی علامت بھی ہے کہ جس شخص کو اس کی توفیق مل جائے تو وہ اس کا ادراک کرلے یا ایسی کوئی علامت نہیں ہے؟ [2]
[1] دیکھئے: المفہم للقرطبي: ۴؍۱۹۵۵۔
[2] توفیق مل جانے کا مطلب ہے کہ: بندے کو ان علامتوں میں سے کسی علامت کے ذریعے کہ جن کے بارے میں ذکر ہوا ہے کہ ان کے ذریعے یہ رات پہچانی جاسکتی ہے۔ علم ہوجائے کہ فلاں رات لیلۃ القدر ہے یا کسی دلیل کے رجحان کی بنا پر، جیسے کہ ستائیسویں کی رات ہے۔ یا کسی اللہ کے بندے کو بذریعہ الہام ادراک ہوجائے کہ آج لیلۃ القدر ہے۔ جیسا کہ امام بیہقی نے الدلائل: ۷؍۳۳ میں، اور روایت کیا ہے کہ سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو الہام ہوجاتا تھا۔ اور اس طرح کے اور ذرائع سے بندے کو لیلۃ القدر کے وقوع پذیر ہونے کا علم ہوجائے۔ یا موافقت و توفیق ملنے کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بندے سرے سے اس معاملے میں کسی چیز کا علم ہی نہ رکھے لیکن درحقیقت یہی لیلۃ القدر ہو۔ ‘‘ اس کے لیے دیکھئے: زاد المسلم للعلامہ الشنقیطی: ۳؍ ۲۰۶۔