کتاب: روزہ جو ایک ڈھال ہے - صفحہ 318
۳: سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس باہم لیلۃ القدر کو یاد کیا۔ چنانچہ آپؐ نے فرمایا:
((أَیُّکُمْ یَذْکُرُ حِیْنَ طَلَعَ الْقَمَرُ وَھُوَ مِثْلُ شِقِّ جَفْنَۃٍ۔))
’’ تم میں سے کون یاد رکھ سکتا ہے کہ جب(شب قدر میں)چاند طلوع ہوتا ہے تو وہ بڑے پیالے کے آدھے حصہ کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ ‘‘[1]
۴: سیّدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((إِنَّ أَمَارَۃَ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ أَنَّھَا صَافِیَۃٌ بَلْجَۃٌ کَأَنَّ فِیْھَا قَمْرًا سَاطِعًا سَاکِنَۃٌ سَاجِیَۃٌ، لَا بَرْدَ فِیْھَا وَلَا حَرَّ، وَلَایَحِلُّ لِکَوْکَبٍ أَنْ یُرْمَی بِہٖ فِیْھَا حَتَّی یُصْبَحَ۔))
[1] دیکھئے: صحیح مسلم؍ کتاب الصیام، باب: فضل لیلۃ القدر، حدیث: ۱۱۷۰۔ امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : یہاں حدیث میں : مِثْلَ شِقِّ جَفْنَۃٍ جو آیا ہے، تو اس فقرہ میں بات کی طرف اشارہ ہے کہ لیلۃ القدر مہینہ کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے۔ اس لیے کہ چاند کی یہ کیفیت مہینہ کے آخری دنوں میں ہی ہوتی ہے۔ واللہ اعلم۔ المنہاج: ۸؍۳۰۶۔