کتاب: روزہ جو ایک ڈھال ہے - صفحہ 317
۲: سیّدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرے ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((وَإِنَّ أَمَارَتَھَا أَنَّ الشَّمْسَ صَبِیْحَتَھَا تَخْرُجُ مُسْتَوِیَۃً، لَیْسَ لَھَا شُعَاعٌ، مِثْلَ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ وَلَا یَحِلُّ لِلشَّیْطَانِ أَنْ یَّخْرُجَ مَعَھَا یَوْمَئِذٍ۔))
’’ اور لیلۃ القدر کی نشانی یہ ہے کہ اُس کی صبح سورج برابر ہو کر نکلتا ہے کہ اس کی شعاعیں نہیں ہوتیں۔ جیسے کہ چودھویں رات کا چاند نکلا ہوا ہو۔ اور شیطان کے لیے اجازت نہیں ہوتی کہ وہ اُس دن سورج کے ساتھ نکل سکے۔ ‘‘ [1]
[1] دیکھئے: مسند الامام احمد: ۵؍۳۲۴۔ حافظ عراقی نے ’’ شرح الصدر بذکر لیلۃ القدر ‘‘، ص: ۵۱ میں لکھتا ہے: اسنادہ جید۔ اور الہیثمی نے ’’المجمع ‘‘ کی جلد: ۳ کے ص: ۱۷۵ پر لکھا ہے: رجالہٌ ثقاتٌ۔