کتاب: روزہ جو ایک ڈھال ہے - صفحہ 313
ہیں۔ اس کو جناب اُبیبن کعب رضی اللہ عنہ نے بلاجزم اختیار کیا، اور جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے انہوں نے اس پر قسم بھی کھائی ہے۔ اور اسی طرح مسند الامام احمد میں سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ:((لَیْلَۃُ الْقَدْرِ لَیْلَۃُ سَبْعٍ وَّعِشْرِیْنَ۔))… ’’ لیلۃ القدر ماہِ رمضان کی ستائیسویں رات ہے۔ ‘‘ اور طبقہ شافعیہ کے شیخ علامہ الشاشی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’الحلیہ ‘‘ میں اکثر علماء سے اسی قول کو ذکر کیا ہے۔ ‘‘[1]
بھائی قاری محترم! مذکور بالا ساری بحث کا حاصل کلام یہ ہے کہ: شب قدر کی تلاش و جستجو میں سب سے زیادہ اُمید آور اوقات رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی نقل و حرکت میں رہنے والی طاق راتیں ہیں۔ اور ان میں سے کسی رات کو بعینھا شب قدر بالجزم نہیں کہا جاسکتا۔ [2] یہ بات اس ضمن میں
[1] دیکھئے: زاد المسلم للعلامہ محمد بن أحمد الشنقیطی رحمہ اللّٰہ: ۳؍۳۰۵۔
[2] حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں : امام مالک بن انس رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ماہِ رمضان کے آخری عشرہ کی تمام راتوں میں تلاش و جستجو کرنا برابر ہے۔ ان میں سے کسی بھی رات کو دوسری پر ترجیح نہیں دی جاسکتی۔ یہ جملہ میں نے شرح الرافعی میں دیکھا ہے۔ دیکھئے: تفسیر ابن کثیر رحمہ اللہ، ص: ۱۸۶۲۔ ط؍ بیت الافکار۔ شرح الرافعی دراصل امام غزالی کی کتاب ’’ الوجیز ‘‘ کی شرح کبیر ہے۔ اور ’’ الوجیز ‘‘ درحقیقت امام غزالی کے استاذ امام جوینی رحمہم اللہ کی کتاب ’’ نہایت المطلب ‘‘ کا اختصار ہے۔ جبکہ الرافعی کی شرح کا اصل نام ’’ فتح العزیز فی شرح الوجیز ‘‘ ہے، جو الشرح الکبیر یا شرح الرافعی کے نام سے معروف ہے۔ وذالک الفائدہ۔