کتاب: روزہ جو ایک ڈھال ہے - صفحہ 310
د:امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے مذہب پر واقعیت پسند سلف صالحین کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ: لیلۃ القدر ماہِ رمضان کی ستائیسویں رات میں ہوتی ہے اور ایسی ہی روایت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے بھی مروی ہے۔ [1] اس رجحان کے لیے سیّدنا اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کے درج ذیل قول سے استدلال کیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: اس اللہ ربّ العزت کی قسم کہ جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اور اللہ کی قسم،(تاکید کے طور پر دوبارہ قسم کھاتے ہوئے کہتے ہیں:)میں بالتاکید اس بات کا علم رکھتا ہوں کہ شب قدر کون سی رات ہے۔ یہی وہ رات ہے کہ جس کے قیام کا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا تھا۔ اور یہ ستائیسویں رات ہے۔ اور اس کی نشانی یہ ہے کہ اس رات کی صبح کو سورج بالکل سفید طلوع ہوتا ہے، اس کی شعاعیں نہیں ہوتیں۔ ‘‘ [2]
[1] دیکھئے: تفسیر ابن کثیر رحمہ اللّٰہ، ص: ۱۸۶۱، طبع بیت الافکار الدولیہ۔ [2] دیکھئے: صحیح مسلم؍ کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا، حدیث: ۷۶۲۔ فائدہ :… اوپر متن میں سیّدنا اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کا قول جو نقل ہوا ہے تو یہ بات انہوں نے اس وقت کی تھی جب اُن سے شب قدر کو ستائیسویں رات کے ساتھ متعین کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ اور کہا تھا: (( بِالْعَلَامَۃِ أَوْ بِالْاٰیَۃِ الَّتِيْ أَخْبَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم : أَنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ یَوْمَئِذٍ لَا شُعَاعٌ لَھَا۔)) … ’’ (ہم نے ستائیسویں رات کو بطور شب قدر( اُس علامت یا نشانی کے ساتھ پہچانا ہے کہ جس کے بارے میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ: اُس دن سورج جب طلوع ہوگا تو اُس کی شعاع نہیں ہوگی۔ اسی طرح صحیح مسلم میں حدیث ۱۱۶۹ کے بعد درج ہے کہ جناب اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ نے انتہائی یقینی قسم اٹھاتے ہوئے کہا، حتی کہ ان شاء اللہ بھی نہیں کہا۔ اور شب قدر کی تعیین میں حضرت اُبی کے قول کے استناد میں کوئی مرفوع حدیث نہیں تھی کہ جو اس رات کی تعیین کرے کہ بعینہٖ ستائیسویں رات ہی لیلۃ القدر ہے۔ بلکہ اس ضمن میں ان کی مستند علامت لیلۃ القدر کا وجود تھا۔ یعنی حدیث شریف میں تو ایک علامت کا ذکر ہے کہ جو لیلۃ القدر کی صبح کو ظاہر ہوتی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ شب قدر کی صبح کو سورج یوں سفید سا نکلتا ہے کہ اس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی۔ اور یہ اس سال بالکل اسی طرح ستائیسویں رات کی صبح کو طلوع ہوگیا تھا۔ اور یہ واقعہ اس بات کو لازم نہیں کرتا کہ لیلۃ القدر ہر سال اسی ستائیسویں رات کو ہی ہوا کرے گی۔ اس لیے کہ یہ رات رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ہر سال منتقل ہوتی رہتی ہے۔ اور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اکیسویں اور ستائیسویں شب کی صبح اس علامت کا وجود صحیح روایات سے ثابت ہے۔ تو اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ سیّدنا اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قابل استناد بات مضبوط نہیں تھی کہ جس پر ستائیسویں کی تعیین کی بنیاد رکھی جاسکے۔ ‘‘ دیکھئے: مبارکپوری رحمہ اللہ کی: مَنَّۃُ الْمُنْعِمْ فِيْ شَرْح صَحِیح مُسلِم: ۱؍۴۸۰۔