کتاب: روزہ جو ایک ڈھال ہے - صفحہ 309
اور یہ کہ وہ(ہر سال اور ہر مطلع کی طرف ایک ہی سال میں)منتقل ہوتی رہتی ہے جیسا کہ اس باب میں وارد احادیث سے بات سمجھ آتی ہے۔ ‘‘ [1] ب:امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’ لیلۃ القدر رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں منتقل ہوتی رہتی ہے(کسی مال اور کسی مطلع میں ۲۱ ویں کو آگئی، کسی میں ۲۳ ویں کو، کسی میں ۲۵ ویں، ۲۷ ویں میں اور کسی میں ۲۹ ویں کو)اور اسی راجح قول پر لیلۃ القدر کے بارے میں وارد مختلف صحیح احادیث کے مابین جمع و تطبیق ہوسکتی ہے۔ ‘‘ [2] ج:شیخ الاسلام امام احمد بن عبدالحلیم ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لیلۃ القدر رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ہی ہوتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بسند صحیح ایسا ہی ثابت ہے۔ سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((ھِيَ فِی الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ وَتَکُوْنُ فِی الْوِتْرِ مِنْھَا۔))… ’’ لیلۃ القدر ماہِ رمضان کے آخری عشرہ کی کسی طاق رات میں ہوتی ہے۔ ‘‘ [3]
[1] دیکھئے: فتح الباری: ۴؍ ۳۱۲، ۴؍۳۱۳۔ [2] دیکھئے: المجموع۔ شرح المہذب: ۶؍۴۴۹۔ [3] دیکھئے: مجموع فتاویٰ شیخ الاسلام ابن تیمیہ: ۲۵؍۲۸۴۔ اور حدیث کے لیے: صحیح البخاری؍ کتاب الأذان، باب السجود علی الأنف والسجود علی الطین، حدیث: ۸۱۳۔ وصحیح مسلم؍ کتاب الصیام، باب فضل لیلۃ القدر، حدیث: ۱۱۶۷۔