کتاب: روزہ جو ایک ڈھال ہے - صفحہ 298
اس لیے اسے لیلۃ القدر کہا جاتا ہے۔ فائدہ:… اَلْقَدْر … سے یہاں مراد قضاء و قدر کے بارے میں جو فیصلہ ہوچکا ہے اور اُس کا فرشتوں پر ظاہر کردینا اور اسے اس سال کے لیے محدود و مقید کردینا تو یہ اس کی تفصیل ہے۔ تاکہ اس رات میں اللہ عزوجل فرشتوں کی طرف جو مقدار بمقدار منتقل کردیتا ہے اس کا حصول ہوجائے۔ [1] (۴)لیلۃ القدر کی عظمت و فضیلت: [2] اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَمَا أَدْرَاکَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ o﴾… ’’ تو کیا سمجھا کہ شب قدر کیا ہے؟ ‘‘(القدر:۳)اللہ عزوجل نے لیلۃ القدر کی شان کو بڑا عظیم کرکے بیان فرمایا ہے۔ حتی کہ اُس نے اپنے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا ہے کہ باوجود اس رات کے عظیم ترین اور اس کی شان بلند ہونے کے اس کا جان لینا(کہ وہ کون سی رات میں ہے؟)اس کی فضیلت کی انتہا اور کے معاملہ کے عظیم ہونے کو نہیں پہنچ سکتا۔ پھر اللہ ربّ العالمین نے چند ایک غایتوں کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر واضح فرمایا کہ یہ
[1] دیکھئے: فتح الباری: ۴؍ ۳۰۱۔ [2] اس موضوع کی تفصیل کے لیے دیکھئے: تفسیر ابن کثیر، ص ۱۸۵۸، طبع بیت الافکار الدولیہ۔ وتفسیر البحر المحیط لأبی حبان: ۸؍۴۹۲۔