کتاب: روزہ جو ایک ڈھال ہے - صفحہ 296
ہر ایک مضبوط کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ ‘‘[الدخان: ۴] …(اور ہر کام اس سے متعلق فرشتے کے سپرد کردیا جاتا ہے۔)اسی طرح اللہ کا یہ فرمان بھی ہے:
﴿تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَالرُّوْحُ فِیْہَا بِاِِذْنِ رَبِّہِمْ مِّنْ کُلِّ اَمْرٍ o﴾(القدر:۴)
’’ اس رات میں ہر کام کے سرانجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح الامین(سیّدنا جبریل علیہ السلام)اُترتے ہیں۔ ‘‘
۲: اَلْقَدْر … سے مراد: تعظیم بھی ہے۔ اور اس رات کا نام لَیْلَۃ الْقَدْر اس لیے بھی رکھا گیا ہے کہ اس کی قدر و منزلت بہت عظیم اور اس کی عزت بہت بلند ہے۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ﴾… ان مشرکوں نے جیسی اللہ عزوجل کی قدر و منزلت اور عزت کرنی چاہیے تو ویسی ان ظالموں نے اس کی تعظیم نہیں کی۔ ‘‘
لیلۃ القدر دراصل چند ایک اہم اُمور کی وجہ سے یہ عظمت و تعظیم اور رفعت و منزلت حاصل کرسکی ہے:
(۱) اسی رات قرآن کا یکبارگی سارا نزول لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا تک ہوا تھا۔