کتاب: روزہ جو ایک ڈھال ہے - صفحہ 289
الطبری رحمہ اللہ نے فرمایا ہے:((وَھٰذَا یَقْتَضِیْ اِضْطِرَابًا فِی ھٰذَا الْحَدِیْثِ۔))اور یہ: ’’ ان کی تفسیر میں مذکور اس حدیث پر جرح۔ ‘‘ اس حدیث میں اضطراب کی متقاضی ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر یہ حدیث ہر اندازے سے نہایت منکر ہے۔(امام ابن کثیر کہتے ہیں:)ہمارے استاذ الامام الحافظ الحجۃ ابوالحجاح المزي رحمہ اللہ فرماتے ہیں:((ھُوَ حَدِیْثٌ مُنْکَرٌ۔))[1]
حدیث کے متن پر ایک نظر:
حافظ الحدیث امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں کہتا ہوں ؛ قاسم بن فضل الحداني کا یہ کہنا کہ: اُنہوں نے بنی اُمیہ کے دور کی مدت کا حساب لگایا تو اُسے پورا ہزار مہینوں(۸۳ سال ۴ مہینوں)کے برابر پایا کہ جن سے نہ اک دن زیادہ بنتا ہے اور نہ ایک دن کم۔ تو یہ بات صحیح نہیں ہے۔ اس حدیث کے ضعف پر جو چیز دلالت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس میں حکومت بنی اُمیہ کی مزمت کا سیاق موجود ہے۔ اگر حدیث میں اُن کی مذمت مقصود ہوتی تو اُس کا ذکر اس سیاق سے نہ ہوتا۔ اس لیے کہ بنوامیہ کے زمانے پر لیلۃ القدر کی فضیلت اُن کے دور کی مذمت پر دلالت نہیں کرتی۔ کیونکہ لیلۃ القدر ایک نہایت
[1] تفصیل کے لیے دیکھئے: تفسیر القرآن العظیم للحافظ ابن کثیر رحمہ اللّٰہ، ص: ۱۸۵۸ وما بعدھا، طبع بیت الافکار الدولیہ؍ بالریاض۔