کتاب: روزہ جو ایک ڈھال ہے - صفحہ 288
اس حدیث کی اسناد پر ایک نظر: امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنی جامع میں اس حدیث کو دو طرق سے درج کیا ہے۔(۱)القاسم بن الفضل عن یوسف بن سعد عن الحسن بن علی رضی اللہ عنہما۔ اور(۲)عن القاسم بن الفضل عن یوسف بن مازن … الخ۔ اسی طرح اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ نے بھی اپنی مستدرک میں(۳/۱۷۰ اور ۳/ ۱۷۵ پر)عن القاسم بن الفضل عن یوسف بن مازن … الخ، درج کیا ہے۔ امام حاکم نے اس حدیث پر صحیح کا حکم لگایا ہے اور امام ذہبی رحمہما اللہ نے اُن کی موافقت کی ہے۔ [1] اسی طرح امام ابوجعفر محمدبن جریر الطبری رحمہ اللہ بھی اسے اپنی تفسیر(۳۰/۲۶۰)میں عن القاسم بن الفضل عن عیسیٰ بن مازن … الخ، درج کیا ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: اور ابن جریر
[1] امام حاکم نے اپنی مستدرک: ۳؍۱۷۰ پر ان الفاظ کے ساتھ اس حدیث کو مفصل درج کیا ہے: (( لَا تُؤَنِّبْنِيْ رَحِمَکَ اللّٰہُ، فَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَدْ رَأیَ بَنِیْ اُمَیَّۃَ یَخْطُبُوْنَ عَلَی مِنْبَرِہِ رَجُلًا رَجُلًا، فَسَائَ ہُ ذٰلِکَ …الخ۔)) … اور پھر حکم لگاتے ہوئے لکھا ہے: ھذا اسنادٌ صحیحٌ۔ دوسرے مقام: ۳؍۱۷۵ پر الفاظ یوں ہے: (( لَا تُؤَنِّبْنِيْ فَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم قَدْ رَأیَ بَنِیْ اُمَیَّۃَ یَخْطُبُوْنَ عَلَی مِنْبَرِہِ رَجُلًا رَجُلًا، فَشَقَّ ذٰلِکَ عَلَیْہِ وَاھْتَمَّ۔))