کتاب: روزہ جو ایک ڈھال ہے - صفحہ 287
نازل ہوئی:﴿إِنَّا أَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ o﴾… ’’ یعنی اے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)ہم نے آپ کو جنت میں ایک نہر عطا کردی ہے۔ ‘‘ اور یہ آیات بھی نازل ہوئیں: ﴿إِنَّا أَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِo وَمَا اَدْرٰکَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ o خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہْرٍ o ﴾(القدر:۱۔۳) ’’ بلاشبہ ہم نے اس قرآن کو لیلۃ القدر میں اُتارا ہے۔ اور اے پیغمبرؐ! تجھ کو کیا معلوم شب قدر کیا چیز ہے؟(اُس کی کیا فضیلت ہے)شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ ‘‘ یعنی اے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)! تمہارے بعد بنوامیہ اتنی(ایک ہزار مہینوں کی)مدت تک بادشاہ ہوں گے۔(راویٔ حدیث)قاسم بن فضل [1] کہتے ہیں: ہم نے بنو اُمیہ کے دور کو شمار کیا تو یہ پورا ہزار مہینوں(۸۳ سال ۴ مہینوں)کا تھا۔ نہ ایک دن زیادہ اور نہ ہی کم۔ ‘‘[2]
[1] قاسم بن فضل الحدانی اس حدیث کی سند کے ایک راوی ہیں اور ان کے متعلق امام ترمذی، یحییٰ بن سعید اور عبدالرحمن بن عمدی کہتے ہیں کہ یہ ثقہ ہیں۔ رحمہم اللہ جمیعاً۔ [2] اخرجہ الترمذی؍ کتاب تفسیر القرآن، حدیث: ۳۳۵۰۔ یہاں ایک راوی یوسف بن سعد کو ضعیف قرار دیتے ہوئے امام ترمذی فرماتے ہیں : ھذا حدیثٌ حسنٌ لا نعرفۃ الا من ھذا الوجہ من حدیث القاسم بن الفضل۔