کتاب: روزہ جو ایک ڈھال ہے - صفحہ 275
فِيْ غَیْرِہِ عَلَی إِحْدَی عَشَرَۃَ رَکْعَۃً۔))
’’ اللہ کے رسول محمد النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہی رمضان المبارک میں قیام اللیل، نمازِ تراویح کی گیارہ رکعات سے زیادہ نماز پڑھتے تھے اور نہ ہی غیر رمضان میں۔ ‘‘[1]
اور آپ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نماز کا وصف بیان کرتے ہوئے یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ؛ ’’ فجر کی دو رکعات(سنتوں)کے علاوہ آپؐ کی یہ قیام اللیل والی رکعات سات، نو اور گیارہ بھی ہوتی تھیں۔ ‘‘ [2] اور پھر آپؓ یوں بھی بیان کرتی ہیں: نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ تہجد تیرہ رکعات بھی پڑھا کرتے تھے کہ جن میں سے وتر اور دو رکعات فجر کی سنتوں والی ہوتی تھیں۔ ‘‘ [3]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ان روایات نے بہت سارے اہل علم(محدثین فقہاء)پر اشکال پیدا کردیا ہے حتی کہ اُن میں سے بعض نے تو آپ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کو اضطراب کی طرف منسوب کردیا
[1] جزء من حدیث صحیح البخاری، حدیث: ۱۱۴۷۔ وصحیح مسلم، حدیث: ۷۳۸۔
[2] دیکھئے: صحیح البخاری؍ کتاب التہجد، باب کیف کان صلاۃ النبی صلي الله عليه وسلم، حدیث: ۱۱۳۹۔
[3] متفق علیہ۔ دیکھئے: صحیح البخاری؍ کتاب التہجد، حدیث: ۱۱۴۰۔ وصحیح مسلم؍ کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا، باب صلاۃ اللیل … حدیث: ۷۳۸۔