کتاب: روزہ جو ایک ڈھال ہے - صفحہ 270
جمع کردوں تو یہ ایک افضل عمل بن جائے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ارادہ پختہ کیا اور اُنہیں جناب اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑا کردیا اور اُنہیں امام بنادیا۔ اس کے بعد سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایک دوسری رات میں تشریف لائے تو دیکھا کہ لوگ ایک امام کے پیچھے نمازِ تراویح پڑھ رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر فرمایا:(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کیے جانے والے ایک سنت عمل کا)یہ نئے سرے سے اجراء بہت ہی اچھا ہے۔ اور وہ نمازِ تہجد کہ جس کے لیے لوگ(آرام کرنے کی خاطر)سورہے ہیں اس سے افضل ہے کہ جس کے لیے لوگ اس وقت قیام کر رہے ہیں۔ آپ کا مقصود رات کے آخری حصے میں پڑھی جانے والی اس نماز کی فضیلت سے تھا۔ اور لوگ اس وقت رات کے پہلے حصے میں اس کا قیام کیے ہوئے تھے۔ [1] مذکور بالا نصوص سے درج ذیل اُمور کا استدلال ہوتا ہے۔ [2] ٭ یہ کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین راتوں تک آپ کے ہمراہ نماز پڑھنے
[1] دیکھئے: صحیح البخاری؍ کتاب صلاۃ التراویح، باب فضل من قام رمضان آخر، حدیث: ۲۰۰۹۔ وحدیث: ۲۰۱۰۔ وصحیح مسلم؍ کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا، باب: الترغی في قیام رمضان وھو التراویح، حدیث: ۷۵۹۔ [2] تفصیل اور شرح کے لیے دیکھئے: فتح الباری: ۴؍ ۲۹۷۔