کتاب: روزہ جو ایک ڈھال ہے - صفحہ 260
إِنَّ عَیْنَيَّ تَنَامَانِ وَلَا یَنَامُ قَلْبِيْ۔))… ’’ عائشہ! میری آنکھیں تو سوتی ہیں، مگر میرا دل نہیں سوتا۔ ‘‘ [1] اور قیام اللیل کے بارے میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت یوں ہے: ((اَلتَّطْوِیْلُ فِی الْقِرَائَ ۃِ مَا أَطَاقَ الْقَائِمُ ذٰلِکَ وَوَجَدَ فِيْ نَفْسِہٖ نِشَاطًا، کَذٰلِکَ الْمُدَاوَمَۃُ عَلَی الْقِیَامِ، وَکَانَ أَحَبَّ الدِّیْنِ إِلَیْہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم مَا دَاوَمَ عَلَیْہِ صَاحِبُہُ۔)) ’’ قیام اللیل کی قراء ت کو اسی قدر لمبا کیا جائے جس قدر اس نماز میں کھڑا آدمی اس کی طاقت رکھتا ہو اور اپنے نفس میں وہ نشاط محسوس کرے۔ اسی طرح قیام اللیل پر ہمیشگی کا معاملہ ہے۔ اور نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل صالح وہ ہوتا تھا کہ جس کا کرنے والا اُس پر ہمیشگی اختیار کرے۔ ‘‘[2]
[1] متفق علیہ۔ دیکھئے: صحیح البخار؍ کتاب التہجد، باب: قیام النبي صلي الله عليه وسلم في رمضان وغیرہ، حدیث: ۱۱۴۷۔ وصحیح مسلم؍ کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا، باب صلاۃ اللیل وعدد رکعات النبي صلي الله عليه وسلم فی اللیل … حدیث: ۷۳۸۔ [2] جیسا کہ اس بارے میں صحیح سنت مطہرہ سے ثابت ہے۔ دیکھئے: صحیح البخاری؍ حدیث: ۴۳ و ۱۱۳۵۔ وصحیح مسلم، حدیث: ۲۵۵، ۷۸۵، ۷۸۲۔