کتاب: روزہ جو ایک ڈھال ہے - صفحہ 258
مِنْ ذَنْبِہٖ۔)) ’’ جس شخص نے ایمان کو بڑھا کر مضبوط کرنے اور نیکیوں کی طلب میں اپنا محاسبہ کرتے ہوئے رمضان المبارک کا قیام کیا اُس کے پچھلے سارے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ ‘‘ [1] سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((صَلَاۃُ اللَّیْلِ مَثْنٰی مَثْنٰی، فَاِذَا خَشِيَ أَحُدُکُمْ الصُّبْحَ، صَلَّی رَکْعَۃً وَاحِدَۃً تُؤثِرُ لَہُ مَا قَدْ صَلَّی۔)) ’’ تہجد کی نماز دو دو رکعات کرکے پڑھنا ہوتی ہے۔(اور نمازِ تراویح بھی اسی طرح)جب تم میں سے کسی کو صبح صادق طلوع ہوجانے کا خدشہ ہو(اور فجر کی اذان ہوجانے کا)تو وہ ایک رکعت نماز پڑھ لے جو اس کی سابقہ نماز کو وتر کردے گی۔ ‘‘[2]
[1] دیکھئے: عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ : صحیح البخاری، حدیث: ۳۷۔ وصحیح مسلم، حدیث: ۷۵۹۔ یہاں حدیث میں وارد لفظ اِیْمَانًا کا مطلب ہے۔ اس عمل پر اللہ کی طرف سے اجر و ثواب کے وعدہ کے یقین و تصدیق کے ساتھ۔ اور اِحْتِسَابًا اجر و ثواب طلب کرنے کی خاطر نہ کردیا وغیرہ کے ارادہ سے۔ دیکھئے: فتح الباری: ۴؍ ۲۹۶۔ [2] متفق علیہ۔ دیکھئے: صحیح البخاری؍ کتاب الوتر، باب ماجآء في الوتر، حدیث: ۹۹۰۔ صحیح مسلم؍ کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا، باب صلاۃ اللیل مثنی مثنیٰ … حدیث: ۷۴۹۔