کتاب: روزہ جو ایک ڈھال ہے - صفحہ 257
۱۴۔ قیام رمضان(نمازِ تراویح)[1]
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے مومن بندوں کی ایک بلند و مرتبہ صفت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
﴿تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ز وَّمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ o﴾(السجدۃ:۱۶)
’’(رات کو)ان کی کروٹیں بچھوں نسے الگ رہتی ہیں، اپنے مالک سے(اُس کے عذاب سے)ڈر کر اور(اُس کی رحمت کی)امید رکھ کر پکارتے ہیں اور ہمارے دیے سے کچھ خرچ کرتے ہیں۔ ‘‘
اور نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
((مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِیْمَانًا وَّإِحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ
[1] تَرَاوِیْحُ، تَرْوِیْحَۃٌ کی جمع ہے۔ اور تَرْوِیْحَۃٌ کا مطلب ایک بار راحت حاصل کرنا ہوتا ہے۔ جیسے تَسْلِیْمَۃٌ مِنَ السَّلَامِ… سلام میں سے ایک طرف سلام پھیرنے کو تَسْلِیْمَۃٌ کہتے ہیں۔ رمضان المبارک کی راتوں میں (عشاء کے بعد نفلاً مسنون طریقے سے) باجماعت نماز پڑھنے کو تراویح کہا جاتا ہے۔ اس لیے کہ صحابہ کرام اور تابعین جب سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں جب نمازِ تراویح کے لیے جمع ہوتے تھے تو دو رکعت تراویح کا سلام پھیرنے اور اگلی دو رکعت شروع کرنے کے درمیان آرام کرتے تھے۔ دیکھئے: فتح الباری: ۴؍ ۲۹۴۔