کتاب: روزہ جو ایک ڈھال ہے - صفحہ 250
اگر اُس نے ایسا کیا تو اُس کا اعتکاف باطل ہوجائے گا۔ البتہ اپنے جسم کے بعض اعضاء کا مسجد سے نکالنا اُسے نقصان نہیں دے گا۔ جیسے کہ دھونے اور کنگھی کرنے کے لیے سر کا مسجد کی حد سے باہر نکالنا۔ [1] اور اسی طرح اس کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ وہ اپنی حوائج ضروریہ کے لیے مسجد کے دروازے کی طرف نکل جائے۔(جیسے آج کل حرمین شریفین کے دروازوں سے باہر نیچے تہہ خانہ میں بیت الخلاء ہیں اور کھانے کی جگہیں اُن سے بھی دُور ہیں)اور معتکف کی بیوی کا اس کی اعتکاف والی جگہ پر اُسے دیکھنے اور گفتگو کرنے کے لیے آنا بھی جائز ہے۔ [2]
[1] جیسا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔ دیکھئے: صحیح البخاری، حدیث: ۲۰۲۹۔ اور صحیح مسلم، حدیث: ۲۹۷۔ [2] جیسا کہ صحیحین میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات اور گفتگو کرنے کے لیے اُمّ المؤمنین سیّدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا آنا مذکور ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ ہیں : (( جَائَ تْ صَفِیَّۃُ إِلَی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم تَزُورُہُ فِيْ إِعْتِکَافِہٖ فِی الْمَسْجِدِ، فِی الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَتحَدَّثَتْ عِنْدَہُ سَاعَۃً، ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ، فَقَامَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وسلم یَقْلِبُھَا، حَتَّی اِذَا بَلَغَتْ بَابَ الْمَسْجِدِ عِنْدَ بَابِ أُمِّ سَلَمَۃَ … الخ۔)) … ’’ اُمّ المؤمنین سیّدہ صفیہ بنت حیي بن اخطب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی حالت اعتکاف میں مسجد نبوی کے اندر ملنے کے لیے آئیں۔ یہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی بات ہے۔ چنانچہ اُنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک گھنٹہ گفتگو کی اور پھر واپس پلٹنے کے لیے کھڑی ہوگئیں تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں واپس گھر بھیجنے کے لیے کھڑے ہوگئے۔ (پھر دونوں چلے) حتی کہ جب صفیہ رضی اللہ عنہا اُمّ المؤمنین اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کے دوازے کے پاس مسجد کے دروازے تک پہنچ گئیں … الخ۔ ‘‘ دیکھئے: صحیح البخاری، حدیث: ۲۰۳۵۔ اور صحیح مسلم، حدیث: ۲۱۷۵۔