کتاب: روزہ جو ایک ڈھال ہے - صفحہ 249
… وَھُوَ فِی الْمَسْجِدِ … فَأُرَجِّلُہُ، وَکَانَ لَا یَدْخُلُ الْبَیْتَ إِلَّا لِحَاجَۃٍ إِذَا کَانَ مُعَتَکِفًا۔))
’’ اور نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں کھڑے کھڑے اپنا سر(اُس دروازے سے جو آپ کے گھر کی طرف کھلتا تھا)میرے سامنے کردیتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنگھی کردیا کرتی تھی۔ جب آپ اعتکاف کی حالت میں ہوتے تھے تو گھر میں داخل ہی نہ ہوتے، سوائے کسی حاجت کے۔‘‘[1]
تو اس ضمن میں حاصل کلام یہ ہے کہ؛ اعتکاف والے شخص پر جماع و مباشرت حرام ہے۔ اس سے اُس کا اعتکاف باطل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح انسانی حاجت کے بغیر جان بوجھ کر معتکف کا مسجد سے نکلنا بھی حرام ہے۔ [2]
[1] دیکھئے: صحیح البخاری؍ کتاب الإعتکاف، باب: لا یدخل البیت الّا لحاجۃ، حدیث: ۲۰۲۹۔ وصحیح مسلم؍ کتاب الحیض، باب: جواز غسل الحائض رأس زوجہا، حدیث: ۲۹۷۔
[2] انسانی حاجت سے مراد: پیشاب، پاخانہ وغیرہ کی قضائے حاجت ہے۔ اوپر صحیح البخاری کی حدیث گزری ہے اس کے صحیح مسلم میں الفاظ یوں ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف بیٹھتے تھے تو اپنا سر مبارک میرے قریب کردیتے تھے اور میں آپ کی کنگھی کردیا کرتی تھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں صرف انسانی قضائے حاجت کے لیے داخل ہوتے تھے۔ ‘‘ دیکھئے: صحیح مسلم، حدیث: ۷۹۲۔