کتاب: روشنی - صفحہ 94
۱۳۰۴ھ مطابق ۱۸۸۲ء )کا بڑا اثر و رسوخ تھا اور شریف مکہ سے ذاتی تعلقات کی بنا پر ان کا حکم مانا جاتا تھا، شیخ دحلان شیخ محمد اور ان کی دعوت سے شدید بغض رکھتے تھے۔ اس بغض کا نتیجہ تھا کہ وہ مکہ مکرمہ میں کتاب و سنت کی دعوت دینے والوں اور ان پر عمل کرنے والوں کے دشمن تھے اور ان پر ’’وہابیت‘‘ کا الزام لگا کر مکہ میں ان کا جینا دوبھر بنا دیتے تھے۔ دحلان تھے تو رافضی شیعہ، مگراس وقت بظاہر شافعی مسلک پر عمل پیرا تھے اور بعد میں حنفیت اختیار کر لی تھی۔[1] شیخ دحلان نے شیخ محمد بن عبدالوہاب کی دعوت کے ردّ میں ایک رسالہ لکھا تھا جس کا نام ’’ الدرر السنیہ فی الرد علی الوہابیۃ‘‘ ہے۔ یہ ایک مختصر سا رسالہ ہے جو انہی کی کتاب ’’خلاصۃ الکلام فی امراء البلد اکرام‘‘ میں شامل ہے۔ اس رسالے کے جس حصے میں شیخ محمد بن عبدالوہاب ، ان کی اصلاحی دعوتِ توحید اور ان کے پیرؤوں کی سیرت و کردار کا ذکر ہے، وہ الف سے یاء تک کذب و افتراء سے عبارت ہے، جس کا بنیادی مقصد ہی جزیرۂ عرب اور بیرونی دنیا کے مسلمانوں کو اس دعوت سے متنفر کرنا تھا اور بد قسمتی سے یہ رسالہ اپنے اس مقصد میں بڑی حد تک کامیاب رہا، جس کا سبب یہ تھا کہ شیخ دحلان کو مکہ مکرمہ میں عرصہ سے اقامت پذیر ہونے اور شریف مکہ کے دربار میں بطورِ ناصح اور خیر خوابہ کے آمدورفت رکھنے کی وجہ سے کافی اثر و رسوخ حاصل تھا اور وہ شریف مکہ اور عثمانی حکومت کے اربابِ حل و عقد کو یہ باور کرانے میں بے حد کامیاب رہے کہ شیخ محمد بن عبدالوہاب کی اصلاحی دعوت کی کامیابی ترک حکومت کے لیے موت کا درجہ رکھتی ہے۔ شیخ دحلان کے مذکورہ رسالے کا اہم اور بنیادی حصہ وہ ہے جس میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کی شرعی حیثیت سے تعرض کیا ہے اور اس کو اپنے من گھڑت اور خود ساختہ عقیدے کی تائید میں جھوٹی اور موضوع روایتوں سے بھر دیا ہے۔ رسالے کے اس حصے کو تقی الدین سبکی متوفی ۷۵۶ھ کی کتاب ’’شفاء السقام فی زیارۃ خیر الأنام‘‘ کا چربہ کہنا زیادہ صحیح ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ سبکی نے مذکورہ کتاب امام ابن تیمیہ [1] البیان والا شہار، ص: ۴۵.