کتاب: روشنی - صفحہ 55
((من رآنی فی المنام فقد رآنی، فان الشیطان لا یتخیل بی ورؤیا المؤمن جزء من ستۃ و أربعین جزئً ا من النبوۃ۔)) ’’جس نے مجھے خواب میں دیکھا درحقیقت اس نے مجھے ہی دیکھا ، کیونکہ شیطان میرا خیال اور تصور نہیں قائم کر سکتا، اور مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔‘‘[1] اس حدیث کا مطلب بھی سابقہ حدیث کی طرح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنے والا آپ ہی کو دیکھتا ہے، اس لیے کہ شیطان کو یہ قدرت نہیں حاصل ہے کہ وہ آپ کی شکل اختیار کر کے کسی کے خواب میں آئے۔ اس حدیث میں مومن کے خواب کو نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ قرار دیا گیا ہے جس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خواب دیکھنے والے کو نبوت حاصل ہو جاتی ہے ، کیونکہ کسی چیز کا کوئی ایک حصہ اس چیز سے عبارت نہیں ہوتا جس طرح نماز کا کوئی ایک عمل ، مثلاً: قیام یا رکوع یا سجدہ نماز نہیں ہے، لہٰذا مومن کے خواب کا نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ’’ نبوت کی طرح مومن کا خواب بھی حق و صدق ہے۔‘‘ حدیث میں مومن کے خواب کو نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ قرار دیا گیا ہے، رسالت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ نہیں ۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ خواب شرعی ماخذ نہیں ہے اور جس طرح رسول اپنے اوپر نازل ہونے والے شرعی حکم کی تبلیغ کا مکلف ہوتا ہے اس طرح خواب دیکھنے والا مومن خواب میں دیکھی جانے والی چیز کی تبلیغ کا مکلف نہیں ہوتا اور اس کے یا دوسرے کے اوپر اس خواب سے کوئی شرعی حکم مترتب نہیں ہوتا، اس کی حیثیت صرف کسی خیر کی بشارت یا کسی شر اور برائی سے خبر دار کرنے یا احتراز برتنے کی ہوتی ہے۔ صحیحین کی روایت کردہ بقیہ تین حدیثوں میں بھی معمولی سے لفظی اختلافات کے ساتھ [1] بخاری: ۶۹۹۴۔ مسلم: ۲۲۶۴.