کتاب: روشنی - صفحہ 164
قارئین کرام نے ایک بات ضرور نو ٹ کی ہو گی کہ ’’نمازِ حاجت‘‘ ہے تو ایک ، مگر اس کی ادائیگی کے اوقات، اس کی رکعتوں کی تعداد، اس میں پڑھی جانے والی آیات اور سورتیں اور ان کی تلاوت کی تعداد، اور دعاؤں کے کلمات اور صیغے ہر چیز مختلف ہے جو اس نماز کے باطل ہونے کی زائد دلیل ہے اور اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ ہر روایت من گھڑت اور خود ساختہ ہے اور ان روایتوں کو وضع کرنے والے مختلف لوگ رہے ہیں ، اس لیے ہر ایک نے اپنے مزاج اور ذوق سے روایت گھڑی اور اپنے مزاج اور ذوق سے نماز کے اوصاف بنائے ہیں۔ ۴۔ نماز حفظ قرآن: حفظ قرآن کی حدیث حافظ منذری نے الترغیب والترہیب میں (نمبر ۸۷۴)، امام ترمذی نے جامع میں(نمبر ۳۵۷۰)، امام حاکم نے مستدرک میں (نمبر ۱۲۳۱) ، اصفہانی نے الترغیب میں[1]، حافظ ابن عساکر نے جزء اخبار حفظ القرآن میں[2] اور ضیاء مقدسی نے المختارۃ میں [3] روایت کی ہے۔ یہ حدیث درج ذیل سند سے روایت کی گئی ہے: سلیمان بن عبدالرحمن دمشقی سے روایت ہے، وہ ولید بن مسلم سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ہم سے ابن جریج نے عطاء بن ابی رباح اور عکرمہ سے ، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا۔ اس سند کے راوی ولی دبن مسلم کے علم و فضل اور علم حدیث میں اس کی مہارت کے باوجود اس پر تدلیس کی بد ترین قسم ’’ تدلیس التسویہ‘‘ کا الزام تھا، تدلیس کے معنی ہیں: عیب کو چھپانا اور دھوکا دینا وغیرہ، یہ لفظ دراصل سامانِ تجارت میں موجود عیب کو چھپانے کے لیے وضع کیا گیا تھا، لیکن پھر ہر طرح کے عیوب کو چھپانے اور لوگوں کو فریب دینے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ [1] ص: ۱۲۷، ج: ۲. [2] ص:۸۶، ج:۱. [3] ص:۶۴،۶۵، ج:۱.