کتاب: روشنی - صفحہ 159
فلیتوضأ، فلیحسن الوضوء، ثم لْیصل رکعتیں، ثم لْیثنِ علی اللّٰہ ولیصلِّ علی النبی صلي الله عليه وسلم ثم لْیقل: لا إلٰہ إلا اللّٰہ الحلیم الکریم ، سبحان اللّٰہ رب العرش العظیم، الحمد للّٰہ رب العالمین ، اسألک موجبات رحمتک و عزائم مغفرتک ، والغنیمۃ من کل بر والسلامۃ من کل إثم ، لا تدع لی ذہنا إلا غفرتہ ولا ہما الا فرجتہ ولا حاجۃ ہی لک رضا إلا قضیتہ یا أرحمن الراحمین۔)) [1] ’’جس شخص کو اللہ یا اولاد آدم کے کسی فرد سے کوئی ضرورت درپیش ہو ، وہ خوب اچھی طرح وضو کرے، پھر دو رکعتیں اد اکرے ، پھر اللہ کی ثناء کرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درُود بھیجے ، پھر کہے: نہیں ہے کوئی معبودِ برحق مگر اللہ درگزر کرنے والا اور صاحب بخشش ، پاک ہے اللہ عرش عظیم کا مالک ، تعریف کا سزا وار صرف اللہ رب العالمین ہے ، میں تجھ سے تیری رحمت کے اسباب اور تیری مغفرت کو یقینی بنا دینے والے محرکات ، ہر نیکی پر آمادہ کرنے والی عبادت اور ہر برائی سے سلامتی کا سوال کرتا ہوں، تو میرے کسی گناہ کو معاف کیے بغیر اور کسی غم و اندوہ کو زائل کیے بغیر مت چھوڑ اور جو ضرورت تیری رضا کی باعث ہو اسے پوری فرما اے مہربانوں میں سب سے بڑے مہربان۔‘‘ یہ روایت اگر موضوع نہیں ہے تو بے حد ضعیف ہے۔ عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے اس کے راوی، فائد بن عبدالرحمن ابو الورقاء عطار کو ائمہ جرح و تعدیل نے جن القاب سے نوازا ہے ان میں سے چند یہ ہیں: متروک ، بے قیمت ، علم حدیث سے نابلد، منکر الحدیث اور وضع حدیث کا ملزم۔[2] [1] ترمذی: ۴۷۹۔ ابن ماجہ: ۱۳۸۴۔ الموضوعات: ۱۰۲۶. [2] ملاحظہ ہو: الجرح والتعدیل، ص: ۱۱۱، ۱۱۲، ج: ۷، ترجمہ: ۱۲۰۲۰۔ المجروحین، ص: ۲۰۳، ج: ۲، ترجمہ: ۸۵۶۔ الضعفاء والمتروکین ، ترجمہ: ۴۳۲۔ میزان الاعتدال ، ص: ۴۰۹۔ ۴۱۰، ج: ۵ ، ترجمہ: ۶۶۸۸۔ تقریب التہذیب ، ص: ۳۸۰، ترجمہ: ۵۳۷۳.