کتاب: روشنی - صفحہ 156
تعدیل کا اتفاق ہے۔[1] یہ تو عمر بن ہارون بلخی کا حال تھا، رہا اس کا شاگرد عامر بن خداش تو اولا تو اس کا ترجمہ بہت کم لوگوں نے لکھا ہے اور جس نے لکھا ہے اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس کی مرویات میں منکر روایتیں شامل ہیں۔[2] عمر بن ہارون نے یہ حدیث عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج سے روایت کی ہے جو اگرچہ ثقہ تھے لیکن ان کے مدلس ہونے پر ائمہ حدیث کے اتفاق کی وجہ سے ان کی ’’عنعنہ‘‘ روایات ناقابل اعتبار ہیں اور اس روایت میں انہوں نے اپنے شیخ داؤد بن ابی عاصم سے ’’سماع‘‘ کی صراحت نہیں کی ہے ، بلکہ بذریعہ ’’ عن ‘‘ روایت کی ہے اس لیے اس روایت کی سند مزید ناقابل اعتماد ہو گئی ہے۔ اسی وجہ سے حافظ زیلعی نے نصب الرایہ میں امام ابن الجوزی کا یہ حکم نقل کرنے پر اکتفا کیاہے کہ یہ حدیث اپنی سند اور متن دونوں اعتبار سے موضوع ہے ، اور خود کوئی رائے نہیں دی ہے، اس طرح انہوں نے امام ابن الجوزی کی تائید کر دی ہے۔[3] یہاں میں قارئین کے علم میں یہ بات لانا چاہتا ہوں کہ صوفیا یا بدعتوں کو رواج دینے والے یا اس باب میں سہل انگاری سے کام لینے والے عام طور پر نئی نئی عبادتوں، اپنے اور دوسروں کے ایجاد کردہ اوراد و اشغال اور جھوٹی روایتوں کی صحت پر اپنے تجربات سے بھی استدلال کرتے ہیں، یعنی یوں کہتے ہیں کہ تجربے سے یہ عمل صحیح ثابت ہوا ہے ، یا اس کے نتائج مفید نکلے ہیں، یا فلاں حدیث ائمہ حدیث کے نزدیک اگرچہ ضعیف ہے ، لیکن مشائخ نے اس پر عمل کیا تو اس سے وہی نتائیج برآمد ہوئے جن کی اس میں خبر دی گئی ہے، چنانچہ اس [1] ملاحظہ ہو: المجروحین، ص: ۶۳،۶۴، ج:۲، ترجمہ: ۶۵۰۔ الجرح والتعدیل ، ص: ۱۷۷، ۱۷۸، ج:۶ ، ترجمہ: ۱۰۰۱۵۔ میزان الاعتدال ، ص: ۲۷۵، ۲۷۷، ج: ۵، ترجمہ: ۶۲۴۳۔ الضعفاء والمتروکین، ص: ۱۸۱، ترجمہ: ۳۶۹۔ تقریب التہذیب ، ص: ۳۵۵، ترجمہ: ۴۹۷۹. [2] میزان الاعتدال، ص: ۱۶، ج: ۴، ترجمہ: ۴۰۸۱. [3] ص:۵۸۴، ج:۴.