کتاب: روشنی - صفحہ 153
پڑھو اور جب اپنی اس نماز کا آخری تشہد پڑھو تو اللہ عزوجل کی ثنا بیان کرو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درُود بھیجو اور سجدہ کی حالت میں سورۃ الفاتحہ سات بار اور آیۃ الکرسی دس بار پڑھو اور کہو: نہیں ہے کوئی معبودِ برحق مگر صرف اللہ جس کا کوئی شریک نہیں ، بادشاہی صرف اسی کی ہے، حمد و تعریف اس کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، یہ دس بار کہو۔پھر کہو: اے اللہ ! میں تیرے عرش کے مقام عزت ، تیری کتاب کی مکمل رحمت ، تیرے بڑے نام، تیری اعلیٰ عظمت و جلال اور تیرے مکمل کلمات کے واسطہ سے تجھ سے سوال کرتا ہوں۔‘‘ پھر تم اپنی حاجت طلب کرو ، پھر اپنا سر اُٹھاؤ اور دائیں بائیں سلام پھیرو اور یہ نماز بیوقوفوں کو مت سکھاؤ، ورنہ وہ اس کے ذریعہ دُعا کریں گے اور وہ قبولیت سے سرفراز ہو جائیں گے۔‘‘[1] یہ روایت حدیث نہیں جھوٹ ہے اور اس کی سند سے پہلے اس کا متن موضوع اور من گھڑت ہے جس کی پہلی دلیل یہ ہے کہ اس میں سجدہ کی حالت میں سورۃ الفاتحہ اور آیۃ الکرسی پڑھنے کی تعلیم دی گئی ہے ، جب کہ صحیح حدیث میں رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے ، چنانچہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ((… ألا و إنی نُہیت أن أقرأ القرآن راکعا او ساجداً ، وأما الرکوع فعظموا فیہ الرب وأما السجود فاجتہدوا فی الدعاء فقمن أن یستجاب لکم۔))[2] ’’… خبردار! مجھے اس بات سے روک دیا گیا ہے کہ میں رکوع یا سجدہ کرتے ہوئے قرآن پڑھوں۔ رہا رکوع تو اس میں رب کی عظمت و بڑائی بیان کرو اور رہا سجدہ تو اس میں کوب دعا مانگو، کیونکہ وہ اس بات کی سزاوار ہیں کہ وہ تمہارے [1] الموضوعات، ص: ۴۶۴، ج: ۲، حدیث نمبر: ۱۰۲۹۔ ضعیف الترغیب والترہیب، ص: ۲۱۶، ج: ۱، حدیث نمبر: ۴۱۸۔ نصب الرایۃ ، ص: ۵۸۳، ۵۸۴، ج:۴. [2] صحیح مسلم: ۱۰۷۴، ۴۷۹.