کتاب: روشنی - صفحہ 135
ہے، تو یہ جھوٹ ہے، یہ بات تو اس اُمت کے ’’محدث‘‘ (صحیح خیال رکھنے والا) نے بھی نہیں کہی ہے، اور اپنی زندگی میں کبھی بھی ایسی بات زبان سے نہیں نکالی، بلکہ اللہ نے ان کو ایسی بات بولنے سے اپنی پناہ میں رکھا ، بلکہ ایک بار ان کے کاتب نے لکھ دیا کہ’’ یہ وہ بات ہے جو اللہ نے امیر المؤمنین عمر بن خطاب کو دکھائی ہے۔‘‘ اس پر آپ نے فرمایا:’’اس عبارت کو مٹاؤ اور لکھو! ایک دوسری روایت میں ہے:’’ تم نے بڑی بُری بات لکھ دی، لکھو: یہ عمر کی رائے ہے، اگر درست ہے تو اللہ کی طرف سے ہے اور اگر غلط ہے تو عمر کی طرف سے۔‘‘ [1] غور فرمایئے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جن کو زبان نبوت سے صائب الرائی ہونے کی سند حاصل تھی اور جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت واضح الفاظ میں فرما دیا تھا کہ: ((إنہ قد کان فی الأمم قبلکم محدثون ، فإن یکن فی ہذہ الأمۃ احدٌ، فعمر بن الخطاب۔)) [2] ’’درحقیقت تم سے پہلے کی قوموں میں صائب اور درست رائے رکھنے والے ہوا کرتے تھے، اگر اس اُمت میں اس صفت سے موصوف کوئی ہے تو وہ عمر بن خطاب ہیں۔‘‘ وہ بھی اپنی رائے سے کوئی بات زبان سے نکالنے اور اس کو اللہ کی طرف منسوب کرنے سے اس درجہ اجتناب کرتے تھے، جب کہ کتاب و سنت کی تعلیمات سے کوسوں دُور اور اپنے ذوق و پسند ہر عمل کرنے والے بڑی جرأت اور بے باکی کے ساتھ اپنے وہم وخیال کو اللہ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ((حَدَّثَنِیْ قَلْبِیْ عَنْ رَّبِیْ )) کے بارے میں شیخ الاسلام امام عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ کی رائے بیان کر دی جائے، فرماتے ہیں: [1] مدارج السالکین ،ص: ۴۰، ج: ۱۔ اعلام الموقعین، ص: ۱۰۱، ج:۱۔ مدارج السالکین میں اس فقرے کا اضافہ ہے:’’اور اللہ اور اس کے رسول اس سے بری ہیں۔‘‘. [2] بخاری: ۳۴۶۹، ۳۶۹۸۔ مسلم: ۲۳۹۸.