کتاب: روشنی - صفحہ 13
بصورتِ بخار کانپنے لگتا تھا، لیکن تپ زدہ مریض کی طرح کمبل نہیں اوڑھتا تھا ، یہاں تک کہ میری ملاقات ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے ہو گئی تو میں نے ان سے اپنی حالت کا ذکر کیا ، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ((اَلرُّؤیَا مِنَ اللّٰہِ وَالْحُلُمُ مِنَ الشَّیْطَانِ ، فَإِذَا حَلَمَ أَحَدُکُمْ حُلْمًا یَکْرَہُہُ ، فَلْیَنْفُثْ عَنْ یَّسَارِہِ ثَـلَاثًا وَلْیَتَعَوَّذْ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّہَا ، فَإِنَّہَا لَنْ تَضُرَّہٗ۔))[1] ’’خواب اللہ کی طرف سے ہے اور خواب پریشاں شیطان کی طرف سے، لہٰذا اگر تم میں سے کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تواس کو چاہیے کہ اپنی بائیں طرف تین بار تھوک دے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ میں آجائے تو یہ خواب اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔‘‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں خواب کی تین قسمیں بیان کی گئی ہیں اور اس کو بیان کرنے سے منع کیا گیا ہے، حدیث کے الفاظ ہیں: ((إِذَا قْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَکُدْ رُؤیَا الْمُؤمِن تَکْذِبُ وَرُؤیَا الْمُؤمِنِ جُزْئٌ مِّنْ سِتَّۃٍ وَّ أَرْبَعِیْنَ جُزْئً ا مِّنَ النُّبُوَّۃِ وَمَا کَانَ مِنَ النُّبُوَّۃِ فَإِنَّہٗ لَا یَکْذِبُ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَأَنَا أَقُوْلُ ہٰذِہٖ۔ قَالَ: وَکَانَ یُقَالُ: اَلرُّؤیَا ثَـلَاثٌ: حَدِیْثُ النَّفْسِ ، وَتَخْوِیْفُ الشَّیْطَانِ وَبُشْرٰی مِنَ اللّٰہِ۔ فَمَنْ رَأَی شَیْئًا یَکْرَہُہُ فَـلَا یُقَصَّہٗ عَلٰی أَحَدٍ ، وَلْیَقُمْ فَلْیُصَلِّ۔ قَالج: وَکَانَ یَکْرَہُ الْغُلُّ فِی النَّوْمِ ، وَکَانَ یُعْجِبُہُمُ الْقیْد ، ویقال: القید ثبات فی الدین۔قال ابوعبداللّٰہ: لا تکون الأغلال إلا فی الاعناق۔)) [2] [1] بخاری: ۵۷۴۷۔ مسلم: ۲۲۶۱۔ ابوداؤد: ۵۰۲۱۔ ترمذی: ۲۲۷۸۔ ابن ماجہ: ۳۹۰۹. [2] بخاری: ۷۰۱۷۔ مسلم: ۲۲۶۳۔ ابوداؤد: ۵۰۱۷۔ترمذی: ۲۲۸۱۔ ابن ماجہ: ۲۹۲۶.