کتاب: روشني اور اندھیرا - صفحہ 66
’’ دین میں غلو کرنے سے بچنا،کیونکہ جو لوگ تم سے پہلے تھے،انھیں دین میں غلو ہی نے ہلاک کیا تھا۔‘‘
۳۔قبروں پر مساجد کی تعمیر اور ان میں تصویر کشی کی ممانعت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر مساجد تعمیر کرنے اور قبروں کو سجدہ گاہ بنانے سے منع فرمایا ہے،کیونکہ صالحین کی قبروں کے پاس اللہ کی عبادت کرنا خود ان کی عبادت کرنے کا ذریعہ ہے۔اور اسی لیے جب حضرت اُمّ حبیبہ اور حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حبشہ کے ایک کنیسہ (گرجا گھر) کا تذکرہ کیا جس میں تصویریں تھیں،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( إِنَّ أُولٰئِکَ إِذَا کَانَ فِیْہِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ بَنَوْا عَلَی قَبْرِہِ مَسْجِدًا وَصُوَرُوا فِیْہِ تِلْکَ الصُّوْرِ،أُوْلٰئِکَ شَرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَاللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) [1]
’’ بے شک یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان میں کوئی نیک آدمی ہوتا اور پھر مرجاتا تو یہ لوگ اس کی قبر پر مسجد تعمیر کرلیتے اور اس میں تصویریں نصب کردیتے،یہ قیامت کے روز اللہ کے نزدیک سب سے بدترین لوگ ہیں۔‘‘
اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی اُمت کے لیے (بھلائی کی ) حرص اور چاہت ہی تھی کہ
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کا وقت آیا تو آپ نے فرمایا:
(( لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْیَہُوْدِ وَالنَّصَارٰی اِتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِیَائِ ہِمْ مَسَاجِدَ۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ رضی اللّٰہ عنہا: (( یَحْذُرُ مَا صَنَعُوْا۔)) [2]
[1] بخاری مع فتح الباری،کتاب ہل تنبش قبور مشرکي الجاہلیۃ ویتخذ مکانہا مساجد: ۱/ ۵۲۳،۳/ ۲۰۸،۷/ ۱۸۷۔ومسلم،کتاب المساجد وامواضع الصلاۃ،باب النہي عن بناء المساجد علی القبور: ۱/ ۳۷۵۔
[2] بخاری مع فتح الباری،کتاب الصلاۃ،باب: حدثنا ابوالیمان:۱/۵۳۲،۳/۲۰۰،۶/۴۹۴،۷/ ۱۸۶،۸/ ۱۴۰،۱۰/ ۲۷۷۔ ومسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ،باب النہي عن بناء المساجد علی القبور واتخاذ الصور فیہا: ۱/ ۳۳۷۔