کتاب: روشني اور اندھیرا - صفحہ 336
علانیہ طور پر ظاہر کرتا ہو،اور کسی کا تعارف (پہچان) کروانے کے لیے۔[1]
اور کسی نے ان چھ اسباب کو حسب ذیل دو شعروں میں یوں جمع کیا ہے:
اَلْقَدْحُ لَیْسَ بِغِیْبِۃٍ فِيْ سِتَّۃٍ
مُتَظَلِّمٍ وَمَعْرُوْفٍ وَمُحْذِرٍ
وَمُجَاہِرٍ فِسْقًا وَمُسْتَفْتٍ وَمِنْ
طَلْبِ الْاِعَانَۃِ فِي إِزَالَۃِ مُنْکَرٍ[2]
’’چھ امور میں برائی غیبت نہیں ہے: ظلم کی شکایت میں،تعارف کے لیے،کسی شر سے بچانے کے لیے،علانیہ فسق کرنے والے کے بالمقابل،فتویٰ طلب کرنے والے کے لیے اور کسی منکر کے ازالہ کی خاطر مدد طلب کرنے والے کے لیے۔‘‘
(۱۹) بدعتی اپنی خواہشات نفسانی کا پیروکار،شریعت کا باغی اور اس کی مخالفت کرنے والا ہوتا ہے۔[3]
(۲۰) بدعتی اپنے آپ کو شارع کے درجہ میں سمجھتا ہے،کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی نے شریعت کے اصول وضع فرمائے ہیں اور مکفین پر ان اصولوں اور ان راہوں پر چلنا لازمی قرار دیا ہے۔[4]
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اور تمام مسلمانوں کو دنیا و آخرت کی عفو و عافیت سے نوازے۔(آمین)
((وَصَلَّی اللّٰہُ وَسَلَّمَ وَبَارَکَ عَلٰی نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِہٖ وَأَصْحَابِہٖ وَمَنْ تَبِعْہُمْ بِإِحْسَانٍ إِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ۔))
[1] دیکھئے: فتح الباری شرح صحیح البخاري،از حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ۱۰/۴۷۱،۷/۸۶۔
[2] دیکھئے: شرح العقیدۃ الطحاویۃ،از ابن ابوالعز،ص:۴۳۔
[3] دیکھئے: الاعتصام،از امام شاطبی رحمہ اللہ،۱/۶۱۔
[4] دیکھئے: الاعتصام،از امام شاطبی رحمہ اللہ،۱/۶۱۔۷۰۔