کتاب: روشني اور اندھیرا - صفحہ 335
لعنت کرنے والوں کی لعنت ہوتی ہے۔‘‘ (۱۶) بدعتی کا عمل اسلام سے نفرت دلاتا ہے: چنانچہ جب بدعتی اپنی بدعت کے خرافات پر عمل کرتا ہے تو یہ چیز دشمنانِ اسلام کے دین اسلام سے ٹھٹھا اور استہزا کرنے کا سبب بنتی ہے،جب کہ دین اسلام ان تمام بدعات سے بری ہے۔[1] (۱۷) بدعتی امت میں تفرقہ پیدا کرتا ہے: اس لیے کہ بدعتی اور اس کے متبعین اس بدعت کے ذریعہ مسلمانوں میں تفریق پیدا کرتے ہیں،جس کے نتیجہ میں وہ گروہوں اور مختلف ٹولیوں میں بٹے نظر آتے ہیں،اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ﴿إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ﴾ (الانعام:۱۵۹) ’’بے شک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کرلیا اور گروہ گروہ بن گئے،آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں،بس ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے ہے،پھر اللہ تعالیٰ انہیں ان کے کیے کی خبر کردے گا۔‘‘ (۱۸)....ایسا بدعتی جو اپنی بدعت کو علانیہ طور پر بیان کرتا اور اس کی تشہیر کرتا ہو،امت کو اس کی بدعت سے متنبہ کرنے کے لیے اس کی غیبت جائز ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بدعت کو ظاہر کرنے والا شخص فسق کے ظاہر کرنے والے کی بہ نسبت زیادہ خطرناک ہے۔ غیبت کتاب و سنت کی روشنی میں حرام ہے،لیکن شرعی مقاصد کے تحت مندرجہ ذیل چھ امور میں غیبت جائز ہے۔[2] ظلم کی شکایت کی غرض سے،منکر کی تبدیلی پر مدد طلبی کی خاطر،استفتا کے لیے،مسلمانوں کو کسی شر و فساد سے محفوظ رکھنے کے لیے،اسی طرح جب کوئی شخص اپنے فسق اور بدعت کو
[1] دیکھئے: تنبیہ أولي الأبصار إلی کمال الدین....از ڈاکٹر صالح سعد سحیمی،ص:۱۹۵۔ [2] دیکھئے: صحیح مسلم بشرح نووی رحمہ اللّٰہ،۱۶/۱۴۲،نیز دیکھئے: تنبیہ أولي الأبصار....از ڈاکٹر صالح سعد سحیمی،ص:۱۸۹۔