کتاب: روشني اور اندھیرا - صفحہ 334
دو چار ہوں۔‘‘
(۱۴) بدعتی ذکر الٰہی سے اعراض کرنے والا ہوتا ہے: کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ہمارے لیے کچھ اذکار اور دعائیں مشروع فرمائی ہیں،جن میں سے کچھ اذکار مقید ہیں،مثلاً: پنج وقتہ نمازوں کے بعد کے اذکار،صبح و شام کی دعائیں،سونے اور بیدار ہونے کے وقت کے اذکار وغیرہ اور کچھ مطلق ہیں جن کے لیے کسی زمان یا مکان کی قید نہیں ہے،ارشاد الٰہی ہے:
﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا () وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا﴾ (الاحزاب:۴۱تا۴۲)
’’اے ایمان والو! اللہ کا خوب خوب ذکر کرو اور صبح و شام اس کی پاکیزگی بیان کرو۔‘‘
لیکن بدعتی ان اذکار اور دعاؤں سے اعراض کرتے ہیں،اپنی بدعات میں مشغول رہنے اور اس فتنہ میں پڑنے کے سبب یا مشروع اذکار اور دعاؤں کو بدعی اذکار اور دعاؤں سے تبدیل کردینے کے سبب،انہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مشروع کردہ اذکار کو ترک کر رکھا ہے اور اس بنیاد پر وہ ذکر الٰہی سے غافل ہیں۔[1]
(۱۵) بدعتی حق کو چھپاتے ہیں اور اپنے متبعین سے حق کو پوشیدہ رکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے انہیں اور ان جیسے لوگوں کو لعنت کی وعید سنائی ہے،ارشاد ہے:
﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ﴾(البقرۃ:۱۵۹)
’’جو لوگ ہماری نازل کردہ دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم اسے اپنی کتاب میں لوگوں کے لیے بیان کرچکے ہیں،ان لوگوں پر اللہ کی اور تمام
[1] دیکھئے: تنبیہ أولی الأبصار إلی کمال الدین وما في البدع من أخطار،از ڈاکٹر صالح سعد سحیمی،ص:۱۸۹۔