کتاب: روشني اور اندھیرا - صفحہ 333
نے فرمایا:
((یَا رَبِّ أَصْحَابِيْ أَصْحَابِيْ،فَیُقَالُ: إِنَّکَ لَا تَدْرِيْ مَا أَحْدَثُوْا بَعْدَکَ۔))[1]
’’(کہ میں کہوں گا) اے میرے رب! یہ میرے اصحاب ہیں،یہ میرے اصحاب ہیں،تو کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں ایجاد کرلی تھیں۔‘‘
نیز حضرت اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((إِنِّيْ عَلَی الْحَوْضِ حَتّٰی أَنْظُرَ مِنْ یَّرِدُ عَلَيَّ مِنْکُمْ،وَسَیُؤْخَذُ نَاسٌ مِنْ دُوْنِيْ فَأَقُوْلُ: یَا رَبِّ مِنِّيْ وَمِنْ أُمِّيْ،فَیُقَالُ: ہَلْ شَعَرْتَ مَا عَمِلُوْا بَعْدَکَ،وَاللّٰہِ مَا بَرِحُوْا یَرْجِعُوْنَ عَلٰی أَعْقَابِہِمْ‘‘،فَکَانَ اِبْنُ أَبِيْ مُلَیْکَۃَ یَقُوْلُ: ’’اَللّٰہُمَّ إِنَّا نَعُوْذُبِکَ أَنْ نَّرْجِعَ عَلٰی أَعْقَابِنَا وَأَنْ ُنْفَتَنَ فِيْ دِیْنِنَا۔))[2]
’’میں حوض کوثر پر ہوں گا تاکہ تم میں جو لوگ میرے پاس آتے ہیں انہیں دیکھوں،اور کچھ لوگوں کو مجھ سے ہٹا دیا جائے گا،تو میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ مجھ سے اور میری امت کے لوگ ہیں،تو کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا عمل کیا؟ اللہ کی قسم! یہ اپنی ایڑیوں کے بل پلٹ گئے تھے‘‘،چنانچہ حضرت ابن ابوملیکہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ’’اے اللہ! ہم تجھ سے پناہ مانگتے ہیں کہ اپنی ایڑیوں کے بل پلٹیں یا اپنے دین میں فتنہ سے
[1] متفق علیہ:البخاری،کتاب الرقائق،باب في حوض النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم،۷/۲۶۲،حدیث نمبر ۶۵۷۵،ومسلم،کتاب الفضائل،باب إثبات حوض نبینا صلی اللّٰہ علیہ وسلم وصفاتہ،۴/۱۷۹۶،حدیث نمبر:۲۲۹۷۔
[2] متفق علیہ:البخاری،کتاب الرقائق،باب في حوض النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم،۷/۲۶۶،حدیث نمبر(۶۵۹۳)،ومسلم،کتاب الفضائل،باب إثبات حوض نبینا صلی اللّٰہ علیہ وسلم وصفاتہ،۴/۱۷۹۴،حدیث نمبر:۲۲۹۳۔