کتاب: روشني اور اندھیرا - صفحہ 332
’’یہ حدیث عموم کے سیاق میں ہے،لہٰذا اس میں شریعت کی منافی ہر نئی چیز شامل ہے اور بدعت سب سے بدترین شے ہے۔‘‘[1] (۱۳) قیامت کے روز بدعتی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض کوثر سے پینے سے روک دیا جائے گا: چنانچہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَنَا فَرْطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ،مَنْ وَرَدَ شَرِبَ وَمْن شَرِبَ لَمْ یَظْمَأْ اَبَدًا وَلَیَرِدَنَّ عَلَّي أَقْوَامٌ أَعْرِفُہُمْ وَیَعْرِفُوْنَنِيْ،ثُمَّ یُحَالُ بَیْنِيْ وَبَیْنَہُمْ۔))[2] ’’میں حوض کوثر پر تمہارا پیش رفت ہوں گا،جو بھی آئے گا نوش کرے گا اور جو بھی نوش کرے گا اسے پھر کبھی پیاس نہ لگے گی اور میرے پاس کچھ لوگ ایسے آئیں گے جنہیں میں پہچانتا ہوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے،پھر میرے اور ان کے درمیان دیوار حائل کردی جائے گی۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے کہ میں کہوں گا: ’’إِنَّہُمْ مِنِّيْ‘‘،’’یہ میرے امتی ہیں ‘‘ تو کہا جائے گا: ’’إِنَّکَ لَا تَدْرِيْ مَا أَحْدَثُوْا بَعْدَکَ‘‘،’’آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں ایجاد کرلی تھیں ‘‘ تو میں کہوں گا: ’’سُحُقًا سُحُقًا لِمَنْ غَیْرَ بَعْدِيْ‘‘،’’ایسے لوگوں کو مجھ سے دور ہٹاؤ جنہوں نے میرے بعد میرے دین میں تبدیلیاں کرلی تھیں۔‘‘[3] اور حضرت شقیق سے بروایت حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
[1] الاعتصام،از امام شاطبی رحمہ اللہ،۱/۶۹۔ [2] متفق علیہ: البخاری،کتاب الرقائق،باب في حوض النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم،۷/۲۶۴،ومسلم،کتاب الفضائل،باب إثبات حوض نبینا صلی اللّٰہ علیہ وسلم وصفاتہ،۴/۱۷۹۳،حدیث نمبر ۲۲۹۰۔ [3] البخاری،کتاب الرقائق،باب في حوض النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم،۷/۲۶۴،حدیث نمبر : ۶۵۸۳۔