کتاب: روشني اور اندھیرا - صفحہ 331
روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ دَعَا إِلٰی ہُدًی کَانَ لَہٗ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلَ أُجُوْرٍ مَنْ تَبِعَہُ لَا یُنْقَصُ ذٰلِکَ مِنْ أُجُوْرِہِمْ شَیْئًا،وَمَنْ دَعَا إِلٰی ضَلَالَۃِ کَانَ عَلَیْہِ مِنَ الْاِثْمِ مِثْلَ آثَامِ مَنْ تَبِعَہٗ لَا یُنْقَصُ ذٰلِکَ مِنْ آثَامِہِمْ شَیْئًا۔))[1] ’’جس نے کسی کو ہدایت کی بات کی طرف دعوت دی تو اسے اسی طرح اجر و ثواب ملے گا جس طرح اس پر عمل کرنے والے کو،لیکن ان کے ثوابوں میں کسی طرح کی کمی واقع نہ ہوگی اور جس نے کسی کو گمراہی کی بات کی طرف بلایا اسے اتنا ہی گناہ ملے گا جتنا اس گمراہی پر عمل کرنے والے کو،لیکن ان کے گناہوں میں کسی طرح کی کمی واقع نہ ہوگی۔‘‘ (۱۲) بدعت بدعتی کو لعنت کا مستحق بناتی ہے: چنانچہ حصرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں بدعت ایجاد کرنے والے کے سلسلہ میں ارشاد فرمایا: ((مَنْ أَحْدَثَ فِیْہَا حَدَثًا أَوْ آوٰی مُحْدِثًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ،وَالْمَلَائِکَۃِ،وَالنَّاسِ أَجْمَعِیْنَ،لَا یَقْبَلُ اللّٰہَ مِنْہُ صَرفاً وَلَا عَدَلًا۔))[2] ’’جس نے مدینہ میں کوئی بدعت ایجاد کی یا کسی بدعتی کو پناہ دی،اس پر ا للہ،فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے،اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہ فرمائے گا۔‘‘ امام شاطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
[1] صحیح مسلم،۴/۲۰۶۰،حدیث نمبر :۲۶۷۴،مفصل تخریج ص۶۳ میں گزر چکی ہے۔ [2] متفق علیہ: البخاری،کتاب الاعتصام،باب إثم من آوی محدثاً،۸/۱۸۷،حدیث نمبر ۳۷۰۶،ومسلم،کتاب الحج،باب فضل المدینۃ، و دعاء النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم فیہا بالبرکۃ ۲/۹۹۴،حدیث نمبر:۱۳۶۶۔