کتاب: روشني اور اندھیرا - صفحہ 330
اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کی تکمیل فرما دی ہے اور اپنی نعمت تمام کردی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ﴾ (المائدہ:۳)
’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔‘‘
اور اللہ تعالیٰ نے اس بات کی وضاحت کردی ہے کہ اس نے قرآن کریم میں ہر چیز کو کھول کھول کر بیان فرمادیا ہے،ارشاد ہے:
﴿وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِي كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا عَلَيْهِمْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَى هَؤُلَاءِ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ﴾ (النحل:۸۹)
’’اور ہم نے آپ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر یہ کتاب نازل فرمائی ہے،جس میں ہر چیز کا شافی بیان ہے اور ہدایت اور رحمت اور خوش خبری ہے مسلمانوں کے لیے۔‘‘
(۱۰) بدعتی پر حق و باطل خلط ملط ہوجاتے ہیں : کیونکہ علم ایک نور ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے ہدایت عطا فرماتا ہے اور بدعتی اس تقویٰ سے محروم ہوتا ہے جس کے ذریعہ اصابت حق کی توفیق نصیب ہوتی ہے،ارشاد الٰہی ہے:
﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ﴾ (الانفال:۲۹)
’’اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ایک فیصلہ کی چیز دے گا اور تم سے تمہارے گناہوں کو دور کردے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بہت بڑے فضل والا ہے۔‘‘
(۱۱) بدعتی اپنا اور اپنے متبعین کے گناہوں کا بوجھ اٹھائے گا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے