کتاب: روشني اور اندھیرا - صفحہ 329
’’اور ایسے فتنہ سے بچو جو صرف تم میں سے ظلم کرنے والوں ہی پر نہ واقع ہوگا اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘
نیز ارشاد ہے:
﴿فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ (النور:۶۳)
’’سنو! جو لوگ حکم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر زبردست آفت نہ آپڑے یا انہیں دردناک عذاب نہ پہنچے۔‘‘
کیا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور آپ کے حکم کی نافرمانی سے زیادہ خطرناک کوئی اور فتنہ ہوسکتا ہے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں کے وقوع سے قبل اعمال صالحہ کی ترغیب دلائی ہے،ارشاد ہے:
((بَادِرُوْا باِلْأَعْمَالِ فتناً کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ،یُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَیُمْسِيْ کَافِرًا،أَوْ یُمْسِيْ مُؤْمِنًا وَیُصْبِحُ کَافِرًا،یَبِیْعُ دِیْنَہُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْیَا۔))[1]
’’ان فتنوں کے وقوع سے پہلے نیک اعمال کی طرف سبقت اور جلدی کرو جو شب د یجور کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے کہ آدمی صبح کو مومن ہوگا اور شام کو کافر،یا شام کو مومن ہوگا اور صبح کو کافر،اپنے دین کو ایک دنیوی سامان کے عوض فروخت کرے گا۔‘‘
(۹) بدعتی شریعت کا استدراک (نکتہ چینی) کرتا ہے: کیونکہ اپنی بدعت کے ذریعہ وہ اپنے آپ کو شریعت ساز اور دین کی تکمیل کرنے والے کی حیثیت سے کھڑا کرتا ہے،جبکہ
[1] صحیح مسلم،بروایت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ،کتاب الإیمان،باب الحث علی المبادرۃ بالأعمال قبل تظاہر الفتن،۱/۱۱۰،حدیث نمبر : ۱۱۸۔