کتاب: روشني اور اندھیرا - صفحہ 328
اکثر و بیشتر ایسا ہی ہوتا ہے،البتہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت عطا فرماتا ہے۔
(۶) بدعتی کی سمجھ کا الٹا ہوجانا: چنانچہ بدعتی نیکی کو بدی اور بدی کو نیکی،اسی طرح سنت کو بدعت اور بدعت کو سنت سمجھتا ہے،حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،وہ فرماتے ہیں :
((وَاللّٰہِ لَتَفْشُوْنَ الْبِدَعُ حَتّٰی إِذَا تُرکَ شِيْئٌ مِنْہَا،قَالُوْا: ’’تُرِکَتِ السُّنَّۃُ۔))[1]
’’اللہ کی قسم! بدعات اس طرح عام ہوجائیں گی کہ اگر ان میں سے کوئی چیز چھوڑ دی جائے گی تو لوگ کہیں گے کہ سنت چھوڑ دی گئی۔‘‘
(۷) بدعتی کی شہادت (گواہی) اور روایت کی عدم قبولیت: تمام اہل علم،محدثین،فقہاء اور اصحاب اصول کا اس بات پر اجماع ہے کہ کفریہ بدعت والے بدعتی کی روایت قبول نہ کی جائے گی،البتہ جس کی بدعت کفریہ نہ ہو اس کی روایت قبول کرنے کے سلسلہ میں اہل علم کا اختلاف ہے،امام نووی رحمہ اللہ نے اس بات کو راجح قرار دیا ہے کہ اگر وہ اپنی بدعت کی طرف لوگوں کو دعوت نہ دیتا ہو تو اس کی روایت قبول کی جائے گی اور اگر اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا ہو تو قبول نہ کی جائے گی۔[2]
(۸) بدعتی سب سے زیادہ فتنوں سے دو چار ہوتے ہیں : جب کہ اللہ تعالیٰ نے فتنوں سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے،ارشاد ربانی ہے:
﴿وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ (الانفال:۲۵)
[1] اس اثر کی تخریج محمد بن وضاح نے ’’کتاب فیہ ما جاء في البدع‘‘ میں کی ہے،ص: ۱۲۴،حدیث نمبر ۱۶۲،اس طرح کے دیگر آثار کے لیے دیکھئے مذکورہ کتاب کا صفحہ ۱۲۴۔۱۵۶۔
[2] دیکھئے: صحیح مسلم بشرح نووی رحمہ اللّٰہ،۱/۱۷۶۔